حماس عہدے دار کی ہلاکت پر خاموش نہیں رہیں گے: حزب اللہ سربراہ حسن نصراللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان کی حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ لبنان میں مقیم حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری کی ہلاکت پر خاموش نہیں رہیں۔ وہ منگل کے روز حماس رہنما کی اسرائیلی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد پہلی بار بدھ کی رات خطاب کر رہے تھے۔

تاہم انہوں نے اسرائیل کو مشروط انداز کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ' اگر اسرائیل نے لڑائی کو غزہ سے لبنان تک پھیلانے کی کوشش کی تو اسرائیل کے خاتمے لیے ہماری مسلح فوج لڑے گی۔'

اس دوران اسرائیلی فورسز نے بے خوف و خطر انداز میں حماس رہنما کے بیروت میں قتل کے بعد غزہ پر بمباری اور حملے جاری رکھے ہیں۔ شمالی غزہ میں ایک پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیل جس نے غزہ کی حکمران مزاحمتی فلسطینی جماعت حماس کے خاتمے کا اعلان کر رکھا ہے، نے ابھی تک صالح العاروری کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے۔

اگرچہ امریکہ وغیرہ کی طرف سے پچھلے کئی ہفتوں سے اسرائیل کو اب حماس قیادت کے خلاف سرجیکل سٹرائیکس کا ہی مشورہ دیا جارہا تھا۔ ایک امریکی اہلکارنے حماس رہنما کو بیروت میں ہلاک کیے جانے کے بعد بھی یہی کہا ہے کہ اسرائیل اب حماس رہنماؤں کو نشانہ بنائے گا۔

اس تناظر میں حماس رہنما العاروری کی ہلاکت بھی جنگ کے غزہ سے باہر پھیلنے کے اشارے دیتی ہے۔

البتہ اسرائیلی فوج کے ترجمان ایڈمرل ڈینئیل ہگاری نے کہا ہے کہ اسرائیلی ہر طرح کے منظر نامے کے لیے تیار ہے۔ واضح رہے 57 سالہ العاروری حماس کے سات اکتوبر کے بعد پہلے بڑے سیاسی قائد ہیں جنہیں جلاوطی نے دوران نشانہ بنایا گیا ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ٹی وی پر دکھائی گئی ایک تقریر میں کہا ' ہم خاموش نہیں رہ سکتے، العاروری کا لبنان میں قتل ایک خطرناک اور بڑا جرم ہے۔'

ان کا مزید کہا تھا' اب حزب اللہ کے لیے بھی کوئی چھت یا کوئی اصول نہیں ہو گا۔ ہم اسرائیل کی طرف سے لبنان کے خلاف جنگ کرنے پر اسرائیل سے لڑیں گے۔ '

جو بھی ہمارے ساتھ جنگ کا سوچے گا اسے ایک لفظ میں کہوں گا، وہ پچھتائے گا، اس لیے واضح کرتے ہیں ، اگر لبنان کے خلاف جنگ شروع کی گئی، تو ہم اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔' ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کی اتحادی ہے۔

سات اکتوبر سے اس کے بھی اسرائیل کے ساتھ مسلسل سرحدی جھڑپوں اور گولہ باری کا تبادلہ جاری ہے۔

اب تک حزب اللہ کے 120 اور دو درجن لبنانی ہلاک ہو چکے ہیں، یہ سب ہلاکتیں اسرائیلی بمباری اور ٹینکوں سے کی گئی گولہ باری سے ہوئی ہیں۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج کے 9 اہلکار بھی اسرائیلی سرحد پر حزب اللہ کے راکٹ حملوں سے ہلاک ہو چکے ہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں