فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی وزیرِ دفاع کا غزہ جنگ کے منصوبوں میں تزویراتی تبدیلی کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ نے جمعرات کو غزہ میں اپنی جنگ کے اگلے مرحلے کے لیے اسرائیل کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا جس میں انکلیو کے شمالی حصے میں ایک نیا مزید ہدف آفریں لائحہ عمل اور جنوب میں حماس کے رہنماؤں کے تعاقب کا تسلسل ہے۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل کم شدید جنگی کارروائیوں کی طرف منتقل ہونے کے لیے غزہ میں اپنی افواج میں کمی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ بین الاقوامی دباؤ بڑھنے کے بعد ہزاروں مخصوص اہلکاروں کو ان کی ملازمتوں پر واپس جانے کی اجازت دی جا سکے۔

گیلنٹ کے دفتر نے ایک بیان میں کہا جس میں جنگ کے اگلے مراحل کے لیے گیلنٹ کے نظریئے کی عکاسی کرنے والے رہنما اصولوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، "غزہ کی پٹی کے شمالی علاقے میں ہم زمین پر فوجی کامیابیوں کے مطابق ایک نئے جنگی لائحہ عمل کی طرف منتقل ہوں گے۔"

انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں میں چھاپے، سرنگوں کو مسمار کرنا، فضائی اور زمینی حملے اور اسپیشل فورسز کی کارروائیاں شامل ہوں گی۔

محصور انکلیو کے جنوب میں جہاں اب غزہ کی 2.3 ملین آبادی میں سے زیادہ تر مقیم ہے جن میں سے کئی خیموں اور دیگر عارضی پناہ گاہوں میں ہیں، یہ آپریشن حماس کے رہنماؤں کو ختم کرنے اور اسرائیلی یرغمالیوں کو بچانے کی کوشش میں جاری رہے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک ضروری ہوا، یہ جاری رہے گا۔

جنگ کے بعد گیلنٹ نے کہا کہ حماس غزہ کو مزید کنٹرول نہیں کرے گی اور اسرائیل کی آپریشنل آزادئ عمل محفوظ رہے گی۔ لیکن انہوں نے کہا کہ وہاں اسرائیلی شہری موجود نہیں ہوں گے اور فلسطینی باڈیز انکلیو کی انچارج ہوں گی۔

"غزہ کے رہائشی فلسطینی ہیں اس لیے فلسطینی اداروں کی ذمہ داری ہوگی اس شرط کے ساتھ کہ اسرائیل کی ریاست کے خلاف کوئی معاندانہ کارروائی یا خطرات نہ ہوں۔"

7 اکتوبر کو حماس کے مزاحمت کاروں کے حملے میں غزہ کے قریب کمیونٹیز میں اسرائیلی اندازوں کے مطابق تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے اور 240 کے قریب کو یرغمال بنا لیا گیا جس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں اپنا کارروائی شروع کی۔

فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق اسرائیل کی جارحیت سے 22,000 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، زیادہ تر آبادی اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئی ہے اور غزہ کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں