اسرائیل کی ڈھٹائی؛ اسپین سے بلائے گئے اپنے سفیر کو واپس بھیجنے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے اعلیٰ سفارت کار نے جمعرات کو کہا کہ وہ ملک کے سفیر کو میڈرڈ واپس بھیج رہے ہیں جب ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز کی جانب سے غزہ میں اسرائیل کی جنگ کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے کے بعد ان کے پیشرو نے انہیں واپس بلا لیا تھا۔

روڈیکا ریڈین گورڈن کو نومبر میں اس وقت کے اسرائیلی وزیرِ خارجہ ایلی کوہن نے واپس بلایا تھا۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں سانچیز کے الفاظ کو "اشتعال انگیز تبصرے" قرار دیا تھا۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ سانچیز نے کہا تھا کہ انہیں جنگ زدہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے اقدامات کی قانونی حیثیت پر "شدید شبہات" تھے۔

ہسپانوی پبلک ٹیلی ویژن کے ساتھ ایک انٹرویو میں سانچیز نے کہا تھا کہ دنیا اسرائیل کو بتائے کہ "اسے اپنے اقدامات کو بین الاقوامی انسانی قانون پر مبنی بنانے کی ضرورت ہے اور جو تصاویر ہم دیکھ رہے ہیں اور ہلاک شدگان بالخصوص لڑکوں اور لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی بنا پر مجھے سنگین شکوک و شبہات ہیں۔"

لیکن جمعرات کو کوہن کے جانشین اسرائیل کاٹز نے کہا کہ انہوں نے ایلچی کو میڈرڈ واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کاٹز نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے لیا گیا ہے کیونکہ اسپین کی حکومت کی طرف سے "پیغامات میں بہتری" آئی تھی۔

اس کا مقصد تھا کہ "اسرائیلی ریاست کے اپنے شہریوں کو حماس کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے حق" کے لیے حمایت حاصل کی جائے اور مزید "یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بین الاقوامی دباؤ" میں اضافہ کیا جائے۔

حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے جواب میں غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کو سانچیز نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد اسرائیل اور اسپین کے درمیان سفارتی تناؤ بڑھ گیا تھا۔

غزہ کی جنگ پر ترکی اور جنوبی افریقہ کے رہنماؤں کے بیانات کے بعد اسرائیل نے ان ممالک سے بھی اپنے سفراء کو واپس بلا لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں