فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کا اسلامی جہاد کے ایک کمانڈر کو قتل کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعرات کو اسرائیلی فوج کے ترجمان نے شمالی غزہ کی پٹی میں آپریشنل سٹاف کے اہلکار اور اسلامی جہاد تحریک کے ایک اہلکار کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ "ممدوح لولو نامی شخص اسلامی جہاد تنظیم کے لیے ایک معاون اور شمالی غزہ کی پٹی کے علاقے کے کمانڈ کے معاون کے طور پر کام کرتا تھا اور وہ تنظیم کی بیرون ملک قیادت سے رابطے میں تھا "۔

انہوں نے مزید کہا کہ "لولو اسلامی جہاد میں ایک نمایاں اور اہم شخصیت تھی اور اپنے مقام و مرتبے کی بنیاد پر اس نے غزہ سے اسرائیل کی ریاست کے خلاف، معمول کے دنوں میں اور جنگ کے دوران متعدد دہشت گردانہ کارروائیاں کیں اور ان کی قیادت کی۔"

ادرعی نے بتایا کہ ممدوح لولو کو ایئر فورس کے ایک طیارے کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔ جس کی قیادت سدرن کمانڈ کے فائر اینڈ انٹیلی جنس سینٹر کر رہے تھے اور جنرل انٹیلی جنس اتھارٹی اور پبلک سیکیورٹی سروس کی رہنمائی میں یہ آپریشن مکمل کیا گیا۔

خیال رہے کہ غزہ میں جنگ اپنے تیسرے مہینے میں داخل ہوچکی ہے اور اسرائیل نے 7 اکتوبر کو تحریک کی طرف سے شروع کیے گئے بے مثال حملے کے بعد حماس کو "ختم" کرنے کا عزم کیا تھا۔

غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کی طرف سے اعلان کردہ ایک نئے اعدادو شمار کے مطابق اسرائیل نے 27 اکتوبر سے زمینی حملے کے ساتھ پرتشدد بمباری کے ساتھ جواب دیا ہے، جس کی وجہ سے جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 22,438 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مارے جانے والوں میں ستر فی صد بچے اور خواتین شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں