ایران میں زہریلی شراب سے ہونے والی تین ہلاکتوں کے بعد چار شراب فروش گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی حکام نے جعلی اور زہریلی شراب فروخت کرنے کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایران میں شراب کے استعمال اور فروخت پر مکمل پابندی ہے۔ اس دوران غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کی وجہ سے کئی افراد کی موت واقع ہو چکی ہے۔

ایرانی فرانزک انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق مارچ 2023 تک ایک سال کی مدت میں مجموعی طور زہریلی شراب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 644 رہی، جو اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔

ابھی تازہ واقعے میں مبینہ طور پر زہریلی شراب کے استعمال کی وجہ سے تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ بیس کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے انہیں ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔

اسی تازہ واقعے کے سلسلے میں چار شراب فروشوں کو گرفتار کیا ہے کہ ان کی فروخت کردہ شراب میں زہریلا مواد شامل تھا جس کی وجہ سے شرابیوں کے لیے یہ جان لیواثابت ہوگئی۔

ایرانی صوبے مغربی آذر بائیجان کے شہر ماکو سے تعلق رکھنے والے پراسیکیوٹر صابر جعفری نے زہریلی شراب کے استعمال کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔

فارس نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے صابر جعفری نے کہا ' زہریلی شراب پینے والے 20 افراد کو مقامی فجر ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

جبکہ زہریلی شراب فروخت کرنے کے الزام کے تحت چار شراب فروشوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان چاروں سے تفتیش جاری ہے۔ واضح رہے ماہ ستمبر کے دوران جعلی اور زہریلی شراب فروخت کرنے والے چار افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھے۔

اس سے قبل ماہ جون کے دوران زہریلی شراب کے استعمال سے 17 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ انہیں شراب فروخت کرنے والے چار افراد کو ہی ستمبر میں سزا سنائی گئی ہے۔

واضح رہے ایران میں اسلامی قانون کے تحت صرف مسیحیوں، زردشتیوں اور یہودیوں کو شراب استعمال کرنے کا حق ہے۔ کسی مسلمان کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔ مسلمانوں کے شراب پینے پر ایران نے 1979 سے پابندی لگا رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں