بحیرہ روم میں امریکی بحری بیڑے سے چند میل دور حوثیوں کی ایک کشتی میں دھماکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی بحری بیڑے کے ایک کمانڈر نے کل جمعرات کو اعلان کیا کہ دھماکہ خیز مواد سے لدی ایک حوثی گائیڈڈ کشتی بحیرہ احمر میں دھماکے سے پھٹ گئی، لیکن یہ امریکی بیڑے سے کئی میل دور تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی بحری جہاز کے اتنے قریب نہیں تھی کہ اسے کوئی نقصان پہنچا سکے۔ یہ ایک ناکام حملہ تھا۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری افواج کی کمانڈ کرنے والے وائس ایڈمرل بریڈ کوپر نے بھی صحافیوں کو بتایا کہ اس وقت بحیرہ احمر میں سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تجارتی جہازوں پر کوئی امریکی میرینز موجود نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "حوثیوں نے جنوبی بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو عبور کرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر اب تک 25 حملے کیے ہیں۔ ان کے غیر ذمہ دارانہ رویے میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اس وقت 22 ممالک اس اتحاد میں حصہ لے رہے ہیں جس کی ہم بحیرہ احمر میں قیادت کر رہے ہیں"ْ۔

بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا نے گزشتہ ماہ شروع کیے گئے کثیر القومی بحری فوجی اتحاد میں نئے ممالک کی شمولیت پر مشاورت اگلے ہفتے باضابطہ طور پر شروع ہونے والی ہے۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ میں تعاون کے لیے یورپی بحری فوج کی تشکیل پر مشاورت جلد شروع ہو جائے گی۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے پہلے اس بات پر زور دیا تھا کہ حوثیوں کو بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں کی وجہ سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے کسی اور انتباہ کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔

امریکہ، آسٹریلیا، بحرین، بیلجیم، کینیڈا، ڈنمارک، جرمنی، اٹلی، جاپان، ہالینڈ، نیوزی لینڈ اور برطانیہ کی حکومتوں کے مشترکہ بیان میں حوثیوں کو مزید حملے کرنے سے خبردار کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں