بنگلہ دیشی جمہوریت میں اپوزیشن کے بغیر انتخابات اتوار کو ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جنوبی ایشیائی ملک بنگلہ دیش میں اتوار کو عام انتخات کے سلسلے میں کروڑوں ووٹر حکمران جماعت کے امیدوارو کے لئے ووٹ ڈالیں گے۔ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد پانچویں بار عوام کے سامنے ووٹ کے لئے موجود ہوں گی۔ اپوزیشن کی طرف سے انتخابی بائیکاٹ نے اس بار بھی حسینہ واجد کی وزارت عظمی کی ضمانت کا موقع فراہم کر دیا ہے۔

بنگلہ دیشی اپوزیشن جماعتیں جنوبی ایشیا کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ انتقامی کارراوائیوں کی زد میں چلی آرہی ہیں۔ مخالفین کی وسیع پیمانے پر گرفتاریوں سے لے کر انہیں پھانسی کی سزائیں دیتے چلے جانا بنگلہ دیش کی عمومی روائت بن گئی ہے۔ اس وجہ سے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کے طور پر انتخابات کا بائیکاٹ کر رہی ہیں جس نے حسینہ واجد کے اقتدار کی راہ ایک بار پھر ہموار جبکہ ملک میں جمہوریت کا راستہ مزید مشکل بنا دیا ہے۔

حسینہ کے دور میں ملکی معیشت میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ ایک غربت زدہ ملک میں یہ اچھی بات رہی۔ گارمنٹس کی برآمدات کی وجہ سے کافی خوشحالی آئی جبکہ بنگلہ دیشی برانڈز کو دنیا بھر میں شہرت بھی ملی۔ لیکن مالی حالت بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی صورت حال دگرگوں ہوتی چلی گئی ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے ماورائے عدالت شہریوں اور بالخصوص سیاسی مخالفین کی ہلاکتوں کا بازار گرم رکھا ہے۔ شہری اور صحافتی آزادیوں کی بد ترین صورت حال پیدا کئے رکھی ہے ۔

اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بے رحمانہ کریک ڈاؤن حسینہ کی حکومت کی پہچان بنتے گئے۔

حکومت نے 25 ہزار کے قریب سیاسی رہنماؤں اور کآرکنوں جیلوں میں بند کر رکھا ہے۔ اپنے مخالفین کو ختم کر دینے کی اس حکمت عملی کے باعث آج انتخابی مرحلے پر بھی عوامی لیگ کے مقابل کوئی موثر اپوزیشن کھڑی نہیں۔

اپوزیشن کی نمائندگی اس قدر کمزور ہوچکی ہے کہ ہے۔ پارلیمان بھی یک جماعتی ماحول کی آئینہ دار ہے۔
اتوار کے روز ہونےوالی پولنگ بھی اسی طرح کے نتائج دے سکے گی۔ نوجوان ووٹرز میں سے بہت سے ایسے ہیں جو ووٹ ڈالنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ انہیں نہیں لگتا کہ ووٹ ڈالتے ہوئے ان کے لئے حقیقی ' چوائس ' کی صورت ممکن ہوگی ۔ کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

28 سالہ رحمان کمپیوٹر انجینئرنگ کے گریجوایٹ ہیں۔انہوں نے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا ' میں ایک یکطرفہ قسم کے انتخاب میں ووٹ ڈالنے جا کر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔'

واضح رہے بڑی اپوزیشن جماعت خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلپارٹی کی طرف سے پچھلے سے مسلسل بڑی بڑی ریلیاں کی گئیں کہ اتوار کو متوقع انتخابات کے لئے غیر جانبدار نگران مقرر کیے جائیں۔ تاکہ شفاف انتخابی عمل کی امید کی جاسکے۔

76 سالہ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کے مقابل بی این پی ہے جس کی قیادت خالدہ ضیا کرتی ہیں۔ دنیا کے آٹھویں گنجان آباد ملک بنگلہ دیش میں سیاست میں ان دو خواتین کا کردار کلیدی ہے۔

حسینہ واجد ملک کے بانی مجیب الرحمان شیخ کی بیٹی ہیں جبکہ خالدہ ضیا سابق فوجی صدر ضیاء الرحمن کی بیوہ ہیں۔ حسینہ واجد 2009 میں ملنے والی انتخابی کامیابی کے بعد سے مسلسل اپنی پوزیشن مضبوط رکھے ہوئے ہیں۔ ان پر اپوزیشن کو کچلنے سے لے کر انتخابی دھآندلی کے الزامات بھی لگےرہی ہیں۔ مگر وہ اقتدار میں رہنے لئے ہر قیمت پر کمٹڈ رہی ہیں۔

78 سالہ خالدہ ضیا کو 2018 عدالت سے سزا ہوئی تھی۔ آج کل وہ ڈھاکہ کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کی جگہ ان کالندن میں جلاوطنی کاٹنے والا بیٹا طارق الرحمان 'بی این پی' کا نگران ہے۔

طارق الرحمان کے خلاف بنگلہ دیش میں کئی فوجداری مقدمات ہیں۔ طارق رحمان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت بی این پی نے ایسے مشکوک انتخابات جن کے نتائج پہلے سے معلوم ہیں میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔

دوسری جانب وزیر اعظم حسینہ واجد اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی پر الزام لگاتی ہیں کہ اس نے اپنی احتجاجی ریلیوں میں توڑ پھوڑکی اور آتشزنی کی ہے۔ تاہم عام طور یہ ریلیاں پر امن تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں