صارفین دغابازی کی نئی لہر کے خلاف ہوشیار ہو جائیں: یو اے ای کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

متحدہ عرب امارات نے رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک بھر میں فریب دہی کی ایک نئی لہر کے خلاف ہوشیار ہو جائیں جن میں دبئی پولیس، ممتاز مقامی بینکوں اور سرکاری اداروں سے تعلق ظاہر کرنے والے جعلسازوں کا فریب شامل ہے۔ ایسی جعلسازی اور فریب سے بچنے کے لیے ماہرین فون پر یا ای میل کے ذریعے حساس ڈیٹا دینے کے خلاف خبردار کرتے ہیں۔

امارات اور وسیع تر متحدہ عرب امارات کے وکلاء اور ماہرین نے العربیہ کو بتایا ہے کہ رہائشیوں کو "مالی پریشانی کے ایک جہاں" سے بچنے کے لیے لنکس پر کلک کرنے یا ذاتی ڈیٹا فراہم کرنے سے پہلے احتیاط برتنی چاہیے۔

دبئی میں ایک حالیہ اماراتی اسکینڈل میں پتا چلا ہے کہ رہائشیوں کو ایک ای میل موصول ہوئی جس میں انہیں فوری طور پر ٹریفک جرمانے ادا کرنے کو کہا گیا ہے۔ ادائیگی کے لیے ای میل کے ساتھ ایک لنک دیا ہوتا ہے۔ ساتھ دیئے گئے لوگو کی وجہ سے یہ ایک باضابطہ اور سرکاری ادارے کی ای میل معلوم ہوتی ہے اور یہ خبردار کرتی ہے کہ اگر وصول کنندہ ادائیگی کرنے میں ناکام رہیں تو انہیں جرمانے یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ای میل کی تحریر کچھ ہوتی ہے: "ہمارے ریکارڈ کے مطابق آپ کو حال ہی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سزا دی گئی ہے۔" اس کے بعد یہ وصول کنندہ سے 24 گھنٹے کے اندر ادائیگی کرنے کو کہتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے سرکردہ بینک ایف اے بی نے اپنے صارفین کو ایک فریب کے خلاف خبردار کرنے کے لیے ایک مراسلہ بھی جاری کیا ہے جس میں وصول کنندگان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ انھوں نے انعام جیت لیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے، "انعام کا دعوی کرنے یا پیکیج حاصل کرنے کے لیے پیشگی فیس ادا نہ کریں۔ فریب کا شکار نہ بنیں۔ ذمہ دار اور چوکس رہیں۔"

ایمریٹس این بی ڈی نے دھوکہ بازوں کی جانب سے صارفین کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کے بعد متحدہ عرب امارات میں ایک محفوظ بینکنگ مہم بھی شروع کی ہے۔

مزید برآں متعدد رہائشیوں نے ٹیکسٹ پیغامات موصول ہونے کی اطلاع دی ہے جس میں پیغام رساں متحدہ عرب امارات کی ایمریٹس پوسٹ سے تعلق کا دعویٰ کرتے ہوئے وصول کنندگان سے کسی بیرونی لنک پر کلک کرنے کو کہتے ہیں۔ اس بات پر اتھارٹی نے ایسی فریب دہی کے خلاف خبردار کیا ہے۔

العربیہ کو دیئے گئے ایک بیان میں ایمریٹس پوسٹ نے کہا: "ایمریٹس پوسٹ متحدہ عرب امارات کے اندر اور باہر بڑی کورئیر اور ای کامرس کمپنیوں کے صارفین کو نشانہ بنانے والے جعلسازوں اور فریب کی بڑھتی ہوئی تعداد سے آگاہ ہے۔ یہ دھوکہ دہی پر مبنی آن لائن اسکیموں کا فعال طور پر مقابلہ کرکے اپنے صارفین کے اعتبار اور اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے وقف ہے۔"

جعلسازی کی 'بڑھتی ہوئی نفاست'

متحدہ عرب امارات میں بی ایس اے لاء فرم کے شراکت دار مائیکل کورٹباوی نے العربیہ کو بتایا کہ اگرچہ جعلسازی اور فریب نئے نہیں ہیں لیکن ان میں اضافہ ہو رہا ہے - اور زیادہ نفیس ہوتے جا رہے ہیں۔

"یقیناً فریب دہی میں اضافے بالخصوص سال کے آخر کی تعطیلات کے دوران ایسے واقعات کی وجہ سے تشویش بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ سائبر مجرمان متحدہ عرب امارات میں افراد اور کمپنیوں کو دھوکہ دینے کے لیے تیزی سے جدید ترین طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ موجود فریب دہی میں مجرمان خود کو نمائندہ ظاہر کرتے ہیں بالخصوص معروف اداروں جیسا کہ ممتاز مقامی بینکوں اور سرکاری اداروں کے نمائندہ۔"

"ان واقعات میں جعلساز اکثر افراد اور کمپنیوں سے رابطہ کر کے دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے اکاؤنٹس میں مسائل ہیں یا انہیں اپنا ذاتی ڈیٹا اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔"

"کال کرنے والے عموماً حساس معلومات مثلاً اماراتی آئی ڈی کی معلومات، پاسپورٹ نمبر، تاریخِ پیدائش اور دیگر ذاتی تفصیلات طلب کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے کچھ متأثرین بالخصوص متحدہ عرب امارات میں نو وارد افراد اس فریب کا شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ ان باتوں کی تعمیل کرنا مجبوری سمجھتے ہیں جو ان کے خیال میں جائز ادارہ جاتی درخواستیں ہوتی ہیں۔"

انہوں نے ایک "پریشان کن" کیس کا حوالہ دیا جو ان کی قانونی فرم نے دیکھا تھا جس میں ایک مؤکل سے دھوکے بازوں نے محکمہ امیگریشن کے اہلکار بن کر 410,000 ڈالر (1.5 ملین) لوٹ لیے تھے۔

کورٹباوی نے کہا، "دھوکے بازوں نے ذاتی معلومات حاصل کرنے کے لیے اسی طرح کے حربے استعمال کیے جس سے متأثرہ شخص کو کافی مالی نقصان پہنچا۔ رہائشیوں کو ہوشیار اور انتباہی علامات سے آگاہ رہنا چاہیے تاکہ خود کو ایسے فریب کا شکار ہونے سے بچا سکیں۔"

عام فریب

انہوں نے کہا، عام اشاروں میں غیر مطلوبہ کالز، ای میلز یا پیغامات، ذاتی یا مالی معلومات کی درخواستیں، دباؤ کے حربے اور پیشگی ادائیگیوں کے بدلے انعامات یا کسی طرح کے فوائد کے وعدے شامل ہیں۔

"اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کا ابلاغ بنیادی طور پر نائیجیریا، بھارت، رومانیہ اور پاکستان جیسے ممالک سے اور موبائل نمبر استعمال کر کے کیا جاتا ہے۔ رہائشیوں کو یاد دلایا جاتا ہے کہ کوئی بھی اتھارٹی یا بینک موبائل نمبر استعمال کرکے رابطہ نہیں کرے گا۔"

بی ایس اے فرم میں وکیل محمود کریدی نے العربیہ کو بتایا کہ دھوکہ دہی کی سرگرمیوں میں اضافے کے جواب میں دبئی پولیس ان فریب کاروں سے نمٹنے کے لیے فعال طور پر کام کر رہی ہے اور اس نے مجرموں کے خلاف اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔

انہوں نے کہا، "تاہم مجرموں کا سراغ لگانا مشکل ہے کیونکہ وہ اکثر متحدہ عرب امارات کے باہر سے کام کرتے ہیں جس کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ایک پیچیدہ سطح کی ضرورت ہوتی ہے۔ قوانین کے لحاظ سے متحدہ عرب امارات نے دھوکہ دہی کی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے سخت ضوابط بنائے ہیں۔"

انہوں نے کہا، سائبر کرائم، شناخت کی چوری، اور مالیاتی فریب کے دائرہ کار میں آنے والی کارروائیاں کئی قوانین کے تحت قابلِ سزا ہیں بشمول افواہوں اور سائبر کرائم کا مقابلہ کرنے سے متعلق وفاقی قانون نمبر 34/2021۔

"اگر دھوکہ باز پکڑے جائیں تو انہیں قید اور بھاری جرمانے سمیت سنگین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ البتہ ان کی دغا باز فطرت اور جو خفیہ طریقے وہ استعمال کرتے ہیں، ان کی وجہ سے چیلنج ان مجرموں کو پکڑنے میں ہے۔"

"حفاظتی اقدام کے طور پر رہائشیوں کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی ایسی مواصلت کے جواز کی توثیق کریں، متحدہ عرب امارات کی سائبر کرائم ہیلپ لائن 800-2626 پر کال کر کے حکام کو مشتبہ اور خوفناک سرگرمیوں کی اطلاع دیں اور فون پر یا آن لائن حساس معلومات کا اشتراک کرنے سے گریز کریں جب تک کہ درخواست کی قانونی حیثیت یقینی نہ ہو۔ ان کمیونٹی ویب سائٹس کو چیک کرنے کی بھی انتہائی تاکید کی جاتی ہے جہاں روزانہ اس طرح کی فریب دہی کی اطلاع دی جاتی ہوں۔ فریب دہی سے خود کو بچانا تفتیش اور احتیاط کا معاملہ ہے۔ اعتماد کرنے سے پہلے تصدیق کرلیں کیونکہ لمحہ بھر کی احتیاط آپ کو مالی پریشانیوں کے ایک جہاں سے بچا سکتی ہے۔"

ملک کی سائبرسیکیوریٹی کونسل کے سربراہ نے نومبر میں کہا تھا کہ 2023 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں متحدہ عرب امارات میں سائبر حملوں کی 71 ملین سے زیادہ کوششوں کو روکا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں