فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ جنگ کے خاتمے کی ڈیڈ لائن نہیں دے سکتے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدرجو بائیڈن کی انتظامیہ کے حکام مشرق وسطیٰ کے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غزہ جنگ کی وجہ سے طول پکڑتےتنازع کو پھیلنے سے روکنے کی کوششوں کے باوجود جنگ بندی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔

کوئی خاص وقت نہیں

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان سیموئل واربرگ نے کہا کہ ان کا ملک جنگ کے خاتمے اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ثالث کے طور پر ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے آج جمعہ کے روز الحدث کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی خاص ڈیڈ لائن نہیں دے سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام حل طلب علاقائی مسائل کے حل کی تلاش میں امریکا اہم کردار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن تمام فعال فریقین کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں ہے۔ ان کے وژن کو شیئر کرتا ہے اور جنگ کے خاتمے کی خواہش رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اپنے اگلے دورے میں اسرائیلیوں کے ساتھ جنگ کے اگلے مرحلے پر بات کریں گے اور ان کا نقطہ نظر بھی سنیں گے۔

ہم نہیں جانتے کہ جنگ کب ختم ہوگی

غزہ میں جاری جنگ کی طوالت کے بارے میں حالیہ بیانات کے بارے میں انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن فریقین کو سننا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے بعد کا عرصہ ایک بہت اہم نکتہ ہے۔

جہاں تک قیدیوں کا تعلق ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن اب بھی حماس کے زیر حراست قیدیوں کی فائل کو اپنی ترجیحی فہرست میں رکھتا ہے۔ بلنکن کے دورے سے اس معاملے پر بات ہوگی۔

غزہ سے نکلنے میں جلدی نہیں کریں گے

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع یوآف گیلنٹ نے جمعرات کو کہا کہ فوجی دستے شمالی غزہ کی پٹی میں جلد ہی فضائی حملے کرنے کے مقصد سے خود کو دوبارہ منظم کر رہے ہیں۔

گیلنٹ نےغزہ کی سرحد کے دورے کے موقع پرمزید کہا کہ اسرائیلی فوج زمین کے اوپراور نیچے کام کر رہی ہے۔ حماس کے مرکزی انفراسٹرکچر کو تباہ کر رہی ہے۔ جہاں غزہ میں حماس اسلحے کی فیکٹریاں لگائی ہیں انہیں تباہ کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حماس کے جنگجو کسی بھی وقت جلد غزہ کی پٹی سے فوج کے نکلنے کا انتظار نہ کریں۔ ہم جلدی غزہ کو نہیں چھوڑیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں