غزہ میں ما بعد جنگ پر اسرائیلی سیاسی اور فوجی قیادت میں شدید اختلافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں جاری جنگ اور جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ کے حوالے سے اسرائیلی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔

گذشتہ روز اسرائیل کے سینیر وزراء، آرمی چیف اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان پر مشتمل اجلاس تلخ کلامی کے بعد ملتوی کردیا گیا۔

فوجی رہ نماؤں کے ساتھ سینیر اسرائیلی وزراء کی ملاقات کا مقصد جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ کی پٹی کے انتظام کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا جس میں متعدد وزراء اور افسروں کے درمیان شدید تلخ کلامی، افراتفری اور زبردست غم غصے کا اظہار کیا گیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق مذکورہ اجلاس میں افراتفری کی کیفیت اس وقت دیکھی گئی جب دائیں بازو کے متعدد وزراء، خاص طور پر وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی آرمی چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی پر پرتشدد تنقید کی۔

انہوں نے گذشتہ سات اکتوبرکو ہونے والی سکیورٹی کی ناکامی کی وجوہات کی تحقیقات کے لیے آرمی چیف سے بھی باز پرس کا مطالبہ کیا اور سکیورٹی اداروں کو حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

میٹنگ کے دوران وزیر ٹرانسپورٹ میری ریجیو نے ہیلیوی پر تنقید کی۔ قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر، وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور علاقائی تعاون کے وزیر ڈیوڈ امسالم نے وزیر ٹرانسپورٹ کی تنقید سے اختلاف کیا۔

دریں اثنا باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ مسالم نے پوچھا کہ "ہمیں اب تحقیقات کی ضرورت کیوں ہے؟ یہ قدم فوج کو جنگ جیتنے میں مصروف کرنے کے بجائے دفاعی پوزیشن میں ڈال دے گا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں