فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کے چوکوں اور چوراہوں پر گھمسان کی جنگ، اسرائیلی فوج نے محفوظ راستہ بند کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں تیزی کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج کے ترجمان نے جمعرات کو صلاح الدین روڈ جسے فلسطینیوں کی نقل مکانی کے لیے نسبتا (محفوظ راستہ) سمجھا جاتا تھا کو فلسطینی پناہ گزینوں کی نقل و حرکت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا۔ البتہ فلسطینیوں کو رشید سٹریٹ سے نقل مکانی کی اجازت دی جا رہی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ صلاح الدین اسٹریٹ پر انسانی ہمدردی کی راہداری کو جمعرات سے بند کردیا جائے گا اور اس کے متبادل الرشید (البحر) اسٹریٹ کو کھولا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ الرشید اسٹریٹ کوریڈور "صرف پٹی کے شمال سے جنوب کی طرف نقل و حرکت کے لیے کھلا رہے گا۔ اس سے پیدل ہو یا گاڑیوں پر صبح چار بجے سے نو بجے تک اور شام چاربجےکے بعد وہاں سے سفر کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "دیر البلح میں البروک اور یافا کے محلوں میں انسانی مقاصد کے لیے صبح 10 بجے سے دوپہر 14 بجے تک فوجی سرگرمیوں کو مقامی اور عارضی طور پر معطل رکھا جائے گا۔

صلاح الدین اسٹریٹ جس کے چوراہوں پر فلسطینی دھڑوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان پرتشدد لڑائی جاری ہےغزہ کی پٹی کے انتہائی شمال میں بیت حانون سے جنوب میں رفح تک 45 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔

پٹی کے شہروں کو ملانے والی دوسری سڑک الرشید اسٹریٹ ہے جو غزہ کی ساحلی پٹی کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر اور اس کے اطراف میں نئے حملے شروع کیے جو کہ تباہی سے بھرا ایک جنگی علاقہ بن چکا تھا اور محصور پٹی کے جنوب میں واقع سب سے بڑے شہری مرکز خان یونس پر بھی شدید بمباری جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں