موجودہ حکومت ملک کے لیے سکیورٹی رسک بن چکی، نیتن یاھو اقتدار چھوڑ دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی حکومت میں وزراء کی الجھنوں اور مسلح افواج کے ساتھ اس کے تعلقات کے پردے کے پیچھے پھیلنے والے اختلافات کے میڈیا میں سامنے آنے کے بعد اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لپیڈ نے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔

انہوں نے موجودہ جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کے انتظام پر گذشتہ گھنٹوں کے دوران حکومت سامنے آنے والے اختلافات کے بعد بنجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں حکومت کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے آج جمعہ کو "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ "گذشتہ رات کابینہ کی طرف سے جاری کردہ لیکس ایک رسوائی اور مزید ثبوت ہیں کہ یہ حکومت ملک کے لیے خطرہ ہے"۔ انہوں نے کہا کہ "ریاست اسرائیل کو حکومت اور اس کے رہ نما کو تبدیل کرنا چاہیے۔ یہ لوگ کوئی تزویراتی فیصلہ نہیں کر سکیں گے اور انہیں اب وہاں سے چلے جانا چاہیے۔"

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی رپورٹ کے مطابق غزہ پر جنگ کے بعد کے معاملے پر نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے درمیان سخت اختلافات سامنے آئے ہیں۔

یووا گیلینٹ اور نیتن یاہو
یووا گیلینٹ اور نیتن یاہو

گرما گرم بحث

جنگ کے اگلے مرحلے کے معاملے پر بحث کرنے کے لیے کل جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں نیتن یاہو اور گیلنٹ کے درمیان وزارت کے ہیڈ کوارٹر کے اندر ایک سائیڈ روم میں گرما گرم بحث کا انکشاف ہوا جس کے بعد اجلاس کو ملتوی کردیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم کی طرف سے وزیرِ دفاع کو دو انٹیلی جنس سروسز (موساد) کے سربراہان اور داخلی سلامتی ایجنسی (شن بیٹ) کے ساتھ ملاقات کرنے سے روکنے کے بعد دونوں رہ نماؤں نے ایک دوسرے پر تنقید کی

گیلنٹ نے نیتن یاہو پر تنقید کی اور ان پر غزہ اور جنگ سے متعلق اپنے فیصلوں کے ذریعے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا۔

جب کہ نیتن یاہو نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ گیلنٹ کو سکیورٹی سروسز کے رہ نماؤں کے ساتھ میٹنگ کرنے کا حق نہیں ہے جو براہ راست وزیر اعظم کو رپورٹ کرتے ہیں نہ کہ وزیر دفاع کو۔ وزیر اعظم نے گیلنٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "موساد کا سربراہ خود مانتا ہے کہ یہ جراثیم سے پاک مباحثے ہیں جن کا مقصد تعلقات عامہ ہے"۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر کو غزہ پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے دائیں بازو کی حکومت کی فلسطینیوں کے حوالے سے اختیار کی جانے والی اسرائیلی پالیسیوں یا جنگ کے انتظام کے حوالے سے پردے کے پیچھے بہت سے تنازعات جنم لے چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں