فلسطین اسرائیل تنازع

’ہم جانوروں کے درمیان رہنے پرمجبور ہیں‘ سیوریج میں ڈوبے بزرگ فلسطینی کی فریاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کے رہائشی تین ماہ سے پٹی پر جاری اسرائیلی جنگ کی وجہ سے مصائب کا شکار ہیں، ان کے پاس کرنے کے لیے کچھ نہیں بچا ہے۔

ناقابل بیان منظر

غزہ کے مصیبت زدہ باسی صرف بمباری سے نہیں مر رہے بلکہ ان کے لیے نقل مکانی، خوراک کی فراہمی کی کمی، بنیادی ڈھانچے کو تباہی کے بعد ان کی جانوں کو کئی طرح کے خطرات لاحق ہیں۔

غزہ کی پٹی جیسے گنجان آباد اور جنگ سے تباہ حال فلسطینیوں کی مشکلات نا قابل بیان ہیں۔ ان کے گھر تباہ ہوگئے ہیں اور وہ کھلے میدانوں میں عارضی خیموں یا کھلے آسمان تلے رہنے سےبھی قاصر ہیں کیونکہ شدید سردی اور سیوریج کا پانی ان کے لیے موت سے کم نہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے خوفناک مناظر میں ایک ایسی ویڈیو بھی ہے جس میں ایک بوڑھے شخص کو اپنی وہیل چیئر کو سیوریج کے اندر سے گھیسٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک دوسرے کلپ میں کچھ لوگ گدھا گاڑی پر سیوریج کے پانی میں پھنسے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

غزہ کے ایک مفلوک الحال شخص نے کہا کہ "ہم کتوں، گوبر، کپڑوں اور گدھوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ پیچھے کچھ نہیں بچا"۔ وہ سیوریج کے سیلاب اور اس مشکل صورتحال کا حوالہ دے رہے تھے۔

آبادی کو تمام سامان کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے، کیونکہ بچوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں کے مریض خصوصی طبی خدمات تک رسائی سے قاصر ہیں۔ پر بمباری کی وجہ سے سیوریج کے پائپ ملبے اور گندے پانی سے بھرجانے کے بعد غلاظت زمین سے باہر نکل پڑی ہے۔

بے گھر افراد کی ایک بڑی تعداد انتہائی محدود جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہے جس سے بیماریاں پھیلتی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ کی گنجان آباد پٹی کا ایک بڑا حصہ کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پرمجبور ہے۔ غزہ کے بیشتر باشندے پرہجوم علاقوں میں مسلسل خوراک کی قلت میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں پر رہنے پر مجبور ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں