حماس کی قیادت کا بیرون ملک تعاقب کرنے والا اسرائیلی سیل ’نیلی‘ کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حماس تحریک کے ایک سینیر رہ نما صالح العاروری کا قتل اسرائیلی منصوبے کے سلسلے کی پہلی کڑی ہے جو برسوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

اگرچہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی جو کہ لبنانی حزب اللہ کے مضبوط گڑھ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں گزشتہ منگل کو پیش آیا، تاہم تمام اشارے اسرائیل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اسرائیلی حکام نے قتل کے پہلے گھنٹوں میں فوج کو مبارکباد پیش کی۔ ساتھ ہی اسرائیلی حکومت نے اپنے تمام وزراء اور عہدیداروں سے کہا کہ وہ اس معاملے پر تبصرہ نہ کریں۔

درحقیقت، موساد (اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی) کے سربراہ نے حال ہی میں کہا تھا کہ "ہر عرب ماں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر اس کا بیٹا 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہے،تو کے بدلے میں اسے قتل کردیا جائے گا‘‘۔

حماس کے ارکان کی تلاش

حماس کی قیادت کو ختم کرنے کے مشن کے تحت ’نیلی‘ نامی ایک نیا سیل تشکیل دیا گیا ہے جو حماس کے ارکان کے ٹھکانوں کی نشاندہی کے بعد انہیں ہلاک یا اغواء کرنے کوشش کرے گا۔

اسرائیلی حکام نے ہفتے کے روز ’این بی سی‘ نیوز کو انکشاف کیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے "نیلی" کے نام سے ایک مشترکہ مشن تشکیل دیا ہے تاکہ حماس کے بیرون ملک کام کرنے والے رہ نماؤں اور ارکان کو تلاش کیا جا سکے ، چاہے وہ لبنان، ترکیہ، حتیٰ کہ قطر میں ہوں یا غزہ کے اندر ہوں۔

یاد رہے کہ ترکیہ نے پہلے بھی اسرائیل کو ان منصوبوں کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ گذشتہ چند دنوں کے دوران مقامی حکام کے اعلان کے مطابق موساد کے درجنوں ایجنٹوں کو گرفتارکر لیا ہے۔

جبکہ باخبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اطلاع دی تھی کہ لبنان اور دیگر ممالک میں حماس کے اہلکار العاروری کے قتل کے بعد نئے حفاظتی انتظامات کریں گے تاکہ انہیں نشانہ نہ بنایا جا سکے۔ مثال کے طور پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ حماس کے رہ نما اسامہ حمدان اب تقریباً روزانہ نظر نہیں آتے۔ العاروری کے قتل سے قبل وہ ہر روز بیروت میں پریس کانفرنس کرتےتھے جس میں وہ غزہ کی پٹی میں تازہ ترین پیش رفت پر میڈیا سے گفتگو کرتے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی فوج نے حالیہ عرصے کے دوران اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنے دعوے کے مطابق حماس کے 9000 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک یا پکڑ لیا ہے، یعنی اس کی جنگی قوت کا ایک تہائی حصہ ختم ہوچکا ہے۔

لیکن وہ ابھی تک غزہ میں حماس کے رہ نما یحییٰ السنوار اور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر تحریک کی جانب سے 7 اکتوبر کو شروع کیے گئے حملے کے ماسٹر مائنڈ محمد الضیف تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ محمد الضیف اور السنوار غزہ کے جنوبی شہر خان یونس میں روپوش ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں