مشرق وسطیٰ

سبزیاں اور پھل اسرائیل کو برآمد کرنے پر اردنی حلقوں میں شدید غم وغصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ چند دنوں سے اردن میں اسرائیل کو سبزیوں اور پھلوں کی برآمد پر یکے بعد دیگرے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جنگ سے مطابقت رکھتے ہوئے ان برآمدی کارروائیوں میں ملوث تاجروں کے نام بھی ظاہر کیے ہیں۔

رد عمل سوشل میڈیا پر عوام شدید غم وغصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ بڑھتے ہوئے یہ غصہ حکومت تک پھیل گیا۔ اردن کے وزیر زراعت خالد حنیف نے ٹیلی ویژن بیانات میں اسرائیل کو سبزیاں اور پھل برآمد کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

حالانکہ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس برآمدات کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل میں 30 سال سے زیادہ سے اسرائیل کو سبزیاں اور پھل برآمد کیے جا رہے ہیں مگر اب اس میں بہت کمی آئی ہے۔

اسرائیل کو سبزیوں کی برآمد کو روکنے کا مطالبہ فلسطینی علاقوں سے ملانے والے الشیخ حسین پل کی طرف جانے والی سڑک پر سماجی کارکنوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔

بہت سے لوگوں نے وزیر زراعت کے تبصروں میں تاجروں کو تل ابیب کے ساتھ ڈیل کرنے کی اجازت دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے موقف میں کھلا تضاد ہے۔ایک طرف وہ اسرائیل کے ساتھ معاہدوں کو معطل کرنے کا دعویٰ کررہی ہے اور دوسری جانب اسرائیل کو سبزیاں، پھل اور دیگر اجناس فراہم کیے جا رہے ہیں۔

خالد حنیف نے گذشتہ منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی وزارت کو قانونی طور پر برآمدی لائسنس جاری کرنے کا حق نہیں ہے اور یہ مسئلہ نجی شعبے کا ہے۔

عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات پر پابندی کی وجہ سے کسانوں کو وزارت زراعت میں کیس دائر کرنا پڑ سکتا ہے۔

اردن کے ایک کاشت کار عبداللہ سنید نے کہا کہ کسان بنیادی طور پر کسی بھی مالی نقصان سے بچنے کے لیے اپنی فصل کو جلد از جلد فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی اکثریت کے پاس فصل کی کٹائی کے بعد ذخیرہ کرنے کے لیے فریزر نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں