غرب اردن میں اسرائیلی بستیوں میں تیزی سے توسیع کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی این جی او ’پیس ناؤ‘ نے ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر رسمی بستیوں اور آباد کاروں کے لیے تعمیر کی جانے والی نئی سڑکوں کی تعداد میں "غیر معمولی انداز میں" اضافہ ہوا ہے۔

نو آبادکاری بستیاں

اسرائیلی تنظیم کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک مغربی کنارے میں نو "آبادی چوکیاں" قائم کی جا چکی ہیں، جس کا آغاز 7 اکتوبر کو حماس کے ایک غیر معمولی حملے سے ہوا تھا اور اس کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

"فلسطینیوں کو کمزور کرنا"

’پیس ناؤ‘ کے مطابق مغربی کنارے پر 1967ء سے اسرائیلی فوج کا قبضہ ہے، غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے اس علاقے میں تشدد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور کچھ آباد کاروں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کا مقصد وہاں فلسطینیوں کو "کمزو" کرنا ہے"۔

تقریباً 30 لاکھ فلسطینی مقبوضہ مغربی کنارے میں رہتے ہیں، جہاں 490,000 اسرائیلی بھی آباد ہیں جو ان بستیوں میں رہتے ہیں جنہیں اسرائیل تسلیم کرتا ہے لیکن بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں۔

آباد کاروں کے لیے 18 سڑکیں

تین مہینوں کی مدت میں نئی غیر رسمی بستیوں کی اس "ریکارڈ" تعداد کے علاوہ، "پیس ناؤ" نے "ریکارڈ تعداد" سڑکوں کی بھی نشاندہی کی ہے۔ ان سڑکوں کی تعداد 18 بتائی گئی ہے جو آباد کاروں کی سہولت کے لیے مغربی کنارے کے علاقوں میں تیار کی گئی ہیں۔

تنظیم نے کہا کہ غزہ میں تین مہینوں سے جاری جنگ کا " آباد کاروں کی طرف سے استحصال کیا جا رہا ہے تاکہ وہ زمین پر اپنا تسلط قائم کر سکیں اور اس طرح ایریا C کے بڑے علاقوں کو کنٹرول کرکے ان پر بستیاں تعمیر کرسکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں