مشرق وسطیٰ

غزہ کی 90 فیصد آبادی جبری طور پر بے دخل، رفح میں بے گھر لوگوں کی بھیڑ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والے لوگوں کے سانحات موت سے کم نہیں ہیں اور تقریباً تین ماہ سے جاری پرتشدد اسرائیلی حملوں میں غزہ کی باشندوں کی مشکلات میں لامتناہی اضافہ ہو رہا ہے۔

جنوبی غزہ کے علاقے رفح کی صورت حال: ایسوسی ایٹڈ پریس
جنوبی غزہ کے علاقے رفح کی صورت حال: ایسوسی ایٹڈ پریس

رفح میں ریت کے ٹیلوں کے علاقے، کھیتوں، مرکزی اور اطراف کی گلیوں، سڑکوں اور تمام عوامی چوراہوں اور خالی جگہوں پر بے گھر لوگوں کے خیموں کی بستیاں دکھائی دیتی ہیں، جن میں غزہ کے تمام حصوں سے پٹی کے جنوب میں واقع شہر کی طرف آنے والے کمسپرسی کے حالات میں زندگی کے دن گذارنے پر مجبور ہیں۔

وسطی غزہ اور خان یونس شہر پر اسرائیل کے بڑھتے دباؤ کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

زیادہ تر خاندان ہلکے نائیلون اور لکڑی کے کھمبوں سے بنے خیمے لگاتے ہیں۔ بہترین صورتوں میں ٹین بورڈ، کچھ بیرونی اور مقامی انسانی ہمدردی کے ادارے محدود تعداد میں خیمے مہیا کرتے ہیں جن میں کچھ پانی کے ٹینک اور عوامی بیت الخلاء ہوتے ہیں، لیکن وہ بہت کم ہیں اور بے گھر لوگوں کی ضروریات کے لیے ناکافی ہیں۔

مکسار کے ذریعہ شائع کردہ سیٹلائٹ تصاویر اس علاقے میں بھیڑ کی حد کو دیکھا جا سکتا ہے۔ مصر کی سرحد کے قریب واقع رفح اپنے اوپر پھیلے خیموں کے جنگل میں تبدیل ہو گیا ہے۔

انہیں زبردستی بے گھر کیا گیا

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (اونروا) نے سنیچر کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ تقریباً 90 فیصد آبادی کو جبری نقل مکانی کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کے پاس ہر چیز کی کمی ہے۔

ایکس پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک پیغام میں اونروا نے غزہ کو فوری امداد فراہم کرنے اور جاری جبری نقل مکانی کو ختم کرنے کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

رفح نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کی حالت زار: اے ایف پی
رفح نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کی حالت زار: اے ایف پی

اقوام متحدہ کی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں قحط کے خطرات ہیں اور کوئی جگہ محفوظ نہیں بچی۔

اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ہنگامی امداد کے کوآرڈی نیٹر مارٹن گریفیتس نے کل جمعہ کو کہا تھا کہ غزہ موت اور مایوسی کا مرکز بن چکا ہے۔ سیوریج کے لیک ہونے سے پناہ گاہوں میں متعدی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں