متحدہ عرب امارات کا اخوان المسلمون تنظیم سے تعلقات کے الزام میں 84 افراد پر مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے اخوان المسلمون سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے 84 افراد پر مقدمہ چلانے کے لئے ابوظبی کورٹ بھیج دیا ہے۔

اماراتی خبر رساں ایجنسی وام نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ ان افراد پر "متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر تشدد اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے مقصد کے تحت خفیہ تنظیم" قائم کرنے پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ملزمان نے گرفتاری سے قبل اپنی کارروائی اور شواہد کو چھپایا۔

متحدہ عرب امارات کے اے جی ڈاکٹر حماد سیف الشمسی نے مبینہ طور پر چھ ماہ کی تفتیش کے بعد ان افراد کو مقدمے کے لیے بھیج دیا۔

ریاستی سکیورٹی عدالت نے عوامی مقدمے کی کارروائی شروع کر دی ہے اور مبینہ طور پر ہر مدعا علیہ کے لیے ایک وکیل مقرر کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ عدالت گواہوں سے بھی سماعت کر رہی ہے۔

اخوان المسلمون مصر میں قائم ہوئی۔ 2014 میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے باضابطہ طور پر اس گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ بحرین اور مصر نے بھی جلد ہی ایسا کیا۔

وام کی رپورٹ کے مطابق مئی 2023 میں اردن نے اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ایک مطلوب شخص خلف عبدالرحمٰن حمید الرمیثی کو متحدہ عرب امارات کے حوالے کیا۔

اس وقت اسے متحدہ عرب امارات میں "دہشت گرد اخوان المسلمون سے وابستہ ایک خفیہ تنظیم قائم کرنے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا جس کا مقصد متحدہ عرب امارات کی حکومت کے بنیادی اصولوں کی مخالفت کرنا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں