فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کا شمالی غزہ میں حماس کا عسکری ڈھانچہ ملیامیٹ کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی غزہ میں حماس کا عسکری ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ کرنے کے ساتھ مجموعی طور پر حماس کے آٹھ ہزار جنگجوؤں کو بھی فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

صہیونی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری کے مطابق اس کارروائی میں حماس کے دو اہم کمانڈر اسماعیل سراج اور احد وہبی کو فضائی حملے میں کام آئے ہیں۔

ہگاری کے مطابق دونوں کمانڈر سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں ملوث تھے۔

ڈینیئل ہگاری نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم نے شمالی غزہ کی پٹی میں حماس کے فوجی سٹرکچر کو تباہ کرنے کا کام مکمل کر لیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی جنگجو اب اس علاقے میں صرف وقفے وقفے سے اور کمانڈروں کے بغیر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس کام میں میں وقت لگے گا۔ ’اب غزہ کی پٹی کے وسط اور جنوب میں حماس کو ختم کرنے پر توجہ مرکوز ہے۔‘

اسرائیلی فوج نے خان یونس میں بھی حملے بڑھا دیے اور فلسطینی ہلال احمر کے اسپتال کے اطراف بھی شدید گولہ باری کی، اسپتال کے پاس کھڑے نہتے فلسطینی کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا جبکہ ڈرون طیاروں سے بھی حملے کیے گئے۔

سات اکتوبر کو ملکی تاریخ کے مہلک ترین حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ کی حماس انتظامیہ کو کچلنے کا عزم کیا تھا۔

حماس کے حملے کے نتیجے میں تقریباً 1140 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے 250 افراد کو یرغمالی بنایا تھا جن میں سے 132 اب بھی حماس کی قید میں ہیں۔

حماس کے زیرانتظام غزہ میں وزارت صحت کے اعداد وشمار کے مطابق اسرائیل کی جوابی کارروائی میں کم از کم 22 ہزار 722 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں