غزہ میں ہلاکتیں 22,800 سےتجاوز کرگئیں، 8,000 افراد ملبے تلے لاپتہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے آج اتوار کو اعلان کیا ہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 22,835 ہو گئی ہے اور 58,416 زخمی ہیں۔

وزارت صحت نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں خاندانوں کے خلاف"قتل عام" کا ارتکاب کیا، جس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 113 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے۔

اس سے قبل آج غزہ میں شہری دفاع نے کہا تھا کہ 7 اکتوبر سے پٹی پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 8000 سے زائد لاپتہ افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ سات اکتوبرسے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 22,600 سے زیادہ اموات اور 57,000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی بمباری کے آغاز سے اب تک سول ڈیفنس کے عملے کے 43 ارکان ہلاک اور 180 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں سول ڈیفنس کے 18 مراکز میں سے دس مراکز کو تباہ کر دیا گیا اور اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر پٹی میں پورے انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا۔

شہری دفاع کے ترجمان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسی عرصے میں سول ڈیفنس کے 5 ارکان کو گرفتار کیا گیا اور ان کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے۔

انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ "غزہ کی پٹی پر مسلط کی جانے والی خونریز جنگ کو روکنے کے لیے فوری اورموثر کارروائی کریں اور شہری دفاع کے باقی ماندہ عملے کے تحفظ کے لیے فوری مداخلت کریں"۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سول ڈیفنس کو ایندھن کی کوئی مقدار نہیں ملی، "جس کی وجہ سے ہماری 70 فیصد سے زیادہ آپریشنل صلاحیتیں متاثر ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی طرف سے سات اکتوبر کو شروع کی گئی جنگ آج چوتھے مہینے میں داخل ہوگئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں