غزہ کی جنگ غزہ میں رہے باہر نہ پھیلے، مغربی سفارتکاروں نے کوششیں شروع کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مشرق وسطیٰ میں اتوار کا دن امریکہ اور یورپی یونین کی ان کوششوں کے حوالے سے اہم رہا ہے کہ تین ماہ سے متجاوز ہو چکی غزہ کی جنگ بس غزہ میں ہی رہے، غزہ سے باہر نکل کر پورے علاقے میں نہ پھیل جائے۔

امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل دوالگ الگ جگہوں پر الگ الگ دوروں پر مشرق وسطٰ ٰ میں اتوار کے روز مصروف رہے مگر دونوں کےعزائم اور مقاصد میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔

دونوں چاہتے ہیں کہ جنگ کا دائرہ لبنان تک نہ پھیلنے پائے۔ حتیٰ کے مغربی کنارے اور بحیرہ احمر میں بھی نہ جانے پائے۔ لیکن غزہ میں فوری جنگ بندی دونوں کی اولیں ترجیح نہیں ہے۔

واضح رہے اسرائیل کی غزہ میں سات اکتوبر سے جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ میں ہونے والے نقصان اور اسرائیلی بے رحم محاصرے کے باعث اسرائیل کے خلاف غزہ سے باہر حماس کے اتحادی گروپ بھی متحرک ہو چکے ہیں، ان میں سے لبنان اسرائیل سرحد پر حزب اللہ اور بحیرہ احمر کو نشانہ بنانے کے لیے یمنی حوثی سرگرم ہیں۔

اسرائیل ایک جانب مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں کو بمباری اور دوسری فوجی کارروائیوں کا نشانہ بنا رہا ہے تو دوسری جانب لبنان کے اندر کارروائیاں بھی کر رہا ہے۔ اسی طرح شام میں بھی بمباری اس کا معمول ہے۔ جبکہ ایران نے کرمان میں حالیہ دو دھماکوں کا بھی الزام اسرائیل پر ہی لگایا ہے۔

یہ صورت حال جنگ کے غزہ سے باہر نکلنے کے حوالے سے امریکہ و یورپ دونوں کے لیے تشویش انگیز ہے۔ اسی سلسلے میں بلنکن اور بوریل خطے کے دورے پر موجود ہیں۔ کہ جنگ غزہ سے باہر نہ جائے اور اسرائیل کے غزہ کے لے اہداف مکمل ہو سکیں۔

انتونی بلنکن نے اتوار کے روز اردن میں ' ہم تصادم کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پوری سنجیدگی اور یکسوئی سے لگے ہوئے ہیں۔' وہ اردن کے بعد اسرائیل، قطر ، متحدہ عرب امارات، مصر اور سعودی عرب بھی جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ان کا حالیہ تین ماہ کے دوران اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے بعض ملکوں کا چوتھا دورہ ہو گا۔ انہوں نے تین ماہ کے دوران عملاً اسرائیل کے لیے ہی سفارت کاری کی ہے۔

اتوار کے روز جب وہ اردن میں شاہ عبداللہ کے ساتھ ملے تو شاہ عبداللہ نے بلنکن پر زور دیا کہ امریکہ اسرائیل پر فوری جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالے۔ انہوں نے اس موقع پر اسرائیلی جنگی کارروائی کے مسلسل جاری رہنے کے مضمرات اور نتیجے میں ہونے والی مزید ممکنہ تباہی سے آگاہ کیا۔

عالمی سطح سے غزہ میں ہزاروں شہریوں کی ہلاکت اور لاکھوں کی نقل مکانی پر مکمل اظہار تشویش کے باوجود اسرائیل حماس کو مکمل تباہ کر دینے تک غزہ میں جنگ جاری رکھنے پر مصر ہے۔ اسرائیلی حکومت اور نیتن یاہو کی حمایت میں کمی کے بعد بھی اسرائیل غزہ کی جنگ کو روکنے پر تیار نہیں ہے۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے' جب تک اپنے تمام اہداف حاصل نہ کر لیں ہمیں جنگ نہیں روکنا ہے۔ ان ہداف میں حماس کا مکمل خاتمہ، یرغمالیوں کی واپسی اور مستقبل میں بھی غزہ سے کسی خطرے کے باقی نہ رہنے کا یقین شامل ہے۔'

نیتن یاہو کے جنگی کابینہ کے اجلاس کے دوران کہا ' یہ بات ہمارے دوستوں اور دشمنوں سبھوں کو سمجھ لینی چاہییں ہم ان اہداف کے بغیر جنگ ختم نہیں کریں گے۔'

ادھرغزہ کی وزارت صحت کے ترجمان نے اشرف القدرہ نے اتوار کے روز ہلاکتوں کے اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ' اب تک 22835 فلسطینی اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہو چکے ہیں، پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران 113 ہلاک اور 250 زخمی ہوئے ہیں۔ '

علاوہ ازیں تین ماہ سے متجاوز جنگ کے دوران 24 لاکھ کی آبادی کے حامل غزہ میں بیس لاکھ کے قریب بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء ، ادویات ، بجلی اور ایندھن کے حالات قحط جیسے ہیں۔

غزہ کی ایک رہائشی فلسطینی خاتون نے کہا ' ہم توقع رکھتے ہیں کہ بلنکن ہمارے لیے رحم کی نگاہ سے دیکھیں گے، جنگ ختم ہوگی اور اس مصیبت کا خاتمہ ہو گا جس میں ہم رہ رہے ہیں۔ ہمیں ایک آزاد اور باوقار زندگی ہی گذارنا ہے۔'

بلنکن ترکیہ اور یونان کے دورے کے بعد اردن پہنچے ہیں جبکہ باقی ملکوں کا دورہ بھی شروع ہوا ہی چاہتا ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ایک سینئیر ذمہ دار نے کہا ' جب اسرائیل اپنے مقاصد حاصل کر لے گا ، حمس کا خاتمہ ہو جائے گا اور علاقے کے مسلم ملکوں غزہ کی تعمیر نو کے لیے، استحکام اور حکمرانی کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ لیکن واضح طورر پر ان کا ہدف جنگ روکنا نہیں جنگ کا پھیلاؤ روکنا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان ایڈمرل ڈینئیل ہگاری کا کہنا ہے ' اسرائیلی فورسز نے حماس کی تباہی مکمل کر لی ہے، خصوصاً شمالی غزہ میں حماس کا فوجی فریم ورک ختم کر لیا ہے اور حماس کے 8000 جنگجو مار دیے ہیں۔'

ترجمان نے مزید کہا ' اب ہم حماس کی وسطی اور جنوبی غزہ میں تباہی پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔ تاہم جنگ 2024 میں جاری رہے گی۔ کیونکہ ہم ایک منصوبے کے مطابق جنگ کر رہے ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں