’عین زبیدہ‘ مکہ معظمہ کی تاریخی یادگار جو زائرین کی توجہ کا خاص مرکز ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

خلافت عباسیہ کے دور کی ایک مشہور ملکہ زبیدہ کے نام سے موسوم مکہ معظمہ کی نہر زبیدہ اور عین زبیدہ آج بھی سیاحوں اور زائرین کی توجہ کا مرکز ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کی حکومت کئی اداروں نے مل کرعین زبیدہ کے مقام کی بحالی اور اس کی ترقی میں اہم کرار ادا کیا ہے۔

ایک طویل تاریخ اور موسم سرما کے خوشگوار ماحول کے ساتھ مکہ معظمہ میں عین زبیدہ کے تاریخی پہلومیں ثقافتی سرگرمیوں نے اس کی ترقی کے بعد زائرین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

زائرین نے عین زبیدہ کے حوالے سے پیش کردہ پریزنٹیشنز کے ذریعے سائٹ کی تاریخ کے بارے میں جان کاری میں دلچسپی لیتے ہیں۔ اس پہاڑی نما جگہ پر کوہ پیمائی اور دیگر سرگرمیاں دیکھنے اور ان میں حصہ لینے آتے ہیں۔

مکہ معظمہ جیسے مقدس شہر اور مقدس مقامات کے لیے رائل کمیشن نے اپنے شراکت داروں کے تعاون سےضیوف الرحمان پروگرام، وزارت ثقافت، جنرل اتھارٹی برائے اوقاف، ہیریٹیج اتھارٹی اور کدانہ کمپنی نے اس پروگرام کا آغاز کیا۔ اس پروگرام میں عین زبیدہ کے علاقے کو ایک ثقافتی اور تفریحی مقام کے طور پر ترقی دینے کا عمل جاری ہے۔

رائل کمیشن نے وضاحت کی کہ یہ علاقہ عین زبیدہ کے قرب و جوارمیں 1.2 کلومیٹر اونچائی پر مشتمل ہے۔ اس میں 6 مختلف تفریحی اور ثقافتی مقامات ہیں جو زائرین کے تجربے کو تقویت بخشتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک تاریخی بصری نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ علاقہ ہفتے میں 3 دن زائرین کے لیے 28 فروری تک کھلا رہے گا۔

یہ بات قابل ذکرہے کہ عین زبیدہ نہرمکہ مکرمہ کی سب سے نمایاں تاریخی یادگاروں میں سے ایک ہے۔ یہ مسلمانوں کے دلوں میں ایک غیر معمولی مقام رکھتی ہے۔ یہ میٹھے پانی کا ذریعہ اور مکہ آنے والے عازمین کے لیے آرام گاہ رہی ہے۔

عین زبیدہ نہرمقدس شہرکی بھرپور تاریخ اور ورثے کی علامت ہے۔ عین زبیدہ کے علاقے کی ترقی اور بحالی کا منصوبہ مکہ مکرمہ کے تاریخی علاقوں کو رائل کمیشن کی طرف سے دی جانے والی دیکھ بھال کی عکاسی کرتا ہے اور ثقافتی اور ورثے سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے، رہائشیوں اور زائرین کے تجربے کو تقویت دینے کا باعث ہے اور اس سے مکہ معظمہ کی سیاحت کو مزید فروغ ملتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں