فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے دو مزید صحافی ہلاک ہو گئے: وزارت صحت غزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اتوار کے روز غزہ کی پٹی پر ہونے والی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں حمزہ وائل الدحدوح اور مصطفیٰ ثریا نام کے دو مزید صحافی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیل نے پچھلے تین ماہ کے دوران 79 صحافیوں کو ہلاک کیا ہے۔ زیادہ تر صحافی اسرائیلی بمباری اور گولہ باری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

مصطفیٰ ثریا 'اے ایف پی' کے لیے ویڈیو سٹرینگر کی حیثیت سے اور حمزہ الدحدوح الجزیرہ کے ساتھ کام کرتے تھے۔ دونوں صحافیوں کو اسرائیلی بمبار طیاروں نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ کار میں سفر کرتے ہوئے جا رہے تھے، تو ان کی کار کو نشانہ بنایا گیا۔

حمزہ وائل الدحدوح کے والد وائل الدحدوح بھی ایک سینیئر صحافی ہیں اور الجزیرہ کے بیورو چیف کے طور پر غزہ میں کام کرتے ہیں۔

حمزہ کے والد الدحدوح بھی حال ہی میں ایک ایسی ہی بمباری کے نتیجے میں زخمی ہوئے تھے تاہم ان کی جان بچ گئی۔ اس سے قبل حمزہ الدحدوح کے خاندان کے تین افراد ایک اور بمباری کی نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

ان میں حمزہ کی والدہ اور دو چھوٹے بھائی تھے۔ اس طرح اس صحافی خاندان کے کل چار افراد اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن چکے ہیں۔ جبکہ دیگر کئی صحافیوں کے خاندان بھی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنائے گئے ہیں۔

اتوار کے روز ہونے والی اسرائیلی بمباری جس کے ذریعے دو مزید صحافیوں کو نشانہ بناکر ہلاک کیا گیا ہے ۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا ہے جب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن مشرق وسطی کے ایک ہفتے کے دورے پر پہنچ چکے ہیں۔ اس سے پہلے امریکی شہریت رکھنے والی ایک خاتون صحافی کو بھی اسرائیلی فوجی ٹینک کی گولہ بمباری سے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

نیویارک میں قائم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(سی پی جے) نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ 31 دسمبر تک اس جنگ کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے بمباری کے نتیجے میں 77 صحافیوں کو ہلاک کیا ہے۔ کسی بھی جنگ کے دوران صحافیوں کا اتنی بڑی تعداد میں نقصان پہلہ مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جن میں سے 70 کا تعلق فلسطین سے، 4 کا تعلق اسرائیل سے اور 3 کا تعلق لبنان سے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں