اسرائیلی پولیس افسر نے تین سالہ فلسطینی بچی کو گولی مار دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی پولس نے اتوار کے روز مغربی کنارے میں ایک تین سالہ بچی کو اس وقت گولی مار کر شہید کر دیا جب وہ اپنے والدین کے ساتھ کار میں سوار ہو کر سیکیورٹی اہلکاروں کی ایک چیک پوسٹ کے پاس گذر رہی تھی کہ ان کی گاڑی کو پولیس نے فائرنگ کا نشانہ بنایا جس سے تین سالہ بچی شدید زخمی ہو گئی اور ہسپتال پہنچانے پر جاں بحق ہو چکی تھی۔

اسرائیلی پولیس نے اس واقعے کے بارے میں کہا ہے' چیک پوسٹ پر کار کے چڑھ دوڑنے پر ایک پولیس افسر نے فائرنگ کی۔ یہ واقعہ مغربی کنارے میں پیش آیا۔ فائرنگ سے ایک بچی کو نشانہ بنایا گیا، جس کی بعد طبی عملے نے موت کی تصدیق کر دی۔

اسرائیلی پولیس کے بیان میں مزید کہا گیا ' کہ ایک وین ڈرائیور نے یروشلم اور رام اللہ کے درمیان چیک پوسٹ پر گاڑی چڑھا دی تو اہلکاروں کو اس پر فائر کھولنے کا کہا گیا۔' مگر دہشت گرد پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک اور گاڑی پر سوار فلسطینی بچی زخمی ہو گئی۔

بعد ازاں بچی کو زخمی حالت میں اسرائیل کے ہنگامی طبی ادارے میگن ڈیوڈ ایڈوم تین چالہ بچی کو مردہ قرار دے دیا گیا۔ اسرائیلی پولیس کے بیان کے مطابق مشتبہ حملہ آور کو بھی گولی لگی، تاہم فوری تک اس کے بارے میں تصدیق نہیں کیا گیا کہ وہ جانبر ہو سکا ہے یا نہیں۔

اس واقعے کی فوٹیج کو بھی ریلیز کیا گیا ہے جو سیکیورٹی کیمروں سے بیڈو کے علاقے میں چیک پوسٹ سے بنائی، اس میں گاڑی کو گذرتے دیکھے گیا ہے۔ فوٹیج میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ پولیس دو گاڑیوں پر فائرنگ کر رہی ہے۔ جس سے تین سالہ بچی اپنے والدین کی گاڑی میں شدید زخمی ہو گئی۔

پولیس نے اپنے بیان میں روایتی انداز میں یہ بھی کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات بھی کرائی جائیں گی۔ تاہم نہیں معلوم یہ تحقیقات کس قدرغیر جانبدارانہ ہو سکیں گی کہ اس تین سالہ فلسطینی بچی اور اس کے والدین کو بھی انصاف مل سکے گا یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں