امریکی وزیرخارجہ کی جنگ میں کمی کی خواہش، دوسری طرف جنوبی غزہ پراسرائیل کی پھر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے جنوبی غزہ اور لبنانی سرحد کے پار اپنے اہداف کو بمباری سے نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی بمباری کے یہ واقعات پیر کے روز امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن کے دورہ اسرائیل سے پہلے سامنے آئے ہیں۔ غزہ میں وزارت صحت نے 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی بمباری سے صرف غزہ میں 249 ہلاک جبکہ 510 فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔

تین ماہ کی جنگ کے دوران غزہ میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے حوالے سے اسرائیلی فوج کا کہنا ہے' اب اس نے اپنا ' فوکس' شمالی غزہ سے ہٹا کر وسطی اور جنوبی غزہ پر کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوجی بیان کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی رات خان یونس شہر میں فوج اور جنگی طیاروں نے حملے اور بمباری کر کے 30 عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے یہ اہداف انتہائی اہم اور جنگجووں کے زیر زمین اسلحہ خانوں کے خلاف بھی تھے۔ اسرائیلی بیان کے مطابق ایک ڈرون حملے میں دس فلسطینی جنگجووں کو اس وقت ہلاک کر دیا گیا جب وہ اسرائیل پر راکٹ فائر کرنے کی تیار کر رہے تھے۔

اسرائیلی فوج نے پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران لبنان میں حزب اللہ کے کئی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ پچھلے ہفتے بیروت میں حزب اللہ کے اہم گڑھ میں ہونے والی اسرائیلی بمباری کی وجہ سے بھی تنازعات بڑھ رہے ہیں۔ امریکی دفتر خارجہ نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ حزب اللہ کے اہم رہنما صالح العاروری کو نشانہ بنایا۔

اب تک سات اکتوبر سے لے کر اسرائیل نے 23084 فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے، جن میں زیادہ بچے اور خواتین ہیں۔ یہ سب فلسطینی اسرائیلی کی بمباری اور ٹینکوں کی مدد سے کیے گئے زمینی حملوں کے نتیجے میں شہید ہوئے ہیں۔

ادھر اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں کی آواز قطر میں بھی سنی گئی جہاں وزیر کارجہ بلنکن پیر کے روز موجود تھے۔ انہوں نے یرغمالیوں کی رہائ کے موضوع پر بات کی۔ نیز اس بارے میں بھی خبر دار کیا کہ تصادم علاقے بھر تک پھیل سکتا ہے۔

بلنکن سعودی عرب میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔ تاکہ تصادم کو روکنے کے لیے ان کی بھی مدد لی جائے۔

ادھر بحیرہ احمر میں حوثیوں کی طرف سے ڈرون حملے بحری تجارتی جہازوں پر جاری ہیں۔ اکتوبر کے اواخر سے حوثیوں کی طرف سے اب تک ایک سو سے زیادہ ڈرون حملے کی جاچکے ہیں۔

امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی ہے، جس نے اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد دے رکھی ہے۔ اس نے بھی اب غزہ میں شہری ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں تشویش کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں