فلسطین اسرائیل تنازع

برطانوی- فلسطینی ڈاکٹر بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیل کے خلاف گواہی دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

حماس-اسرائیل جنگ کے دوران غزہ کے ہسپتالوں میں کام کرنے والے ایک برطانوی-فلسطینی ڈاکٹر کو امید ہے کہ انہوں نے برطانوی پولیس کو جو گواہی دی ہے وہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمے کا باعث بنے گی۔

جنگی زخموں میں مہارت رکھنے والے ایک پلاسٹک سرجن غسان ابو ستہ نے 43 دن محصور فلسطینی علاقے میں اور زیادہ تر شمال میں الاہلی اور الشفاء ہسپتالوں میں رضاکارانہ طور پر گذارے۔

54 سالہ شخص نے جو زخم دیکھے ہیں اور زخمیوں پر جس قسم کے ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں، ان کے بارے میں پہلے ہی وہ برطانیہ کی سب سے بڑی پولیس فورس میٹ کو گواہی دے چکے ہیں۔ یہ گواہی دونوں اطراف سے کیے گئے مبینہ جنگی جرائم کی بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تحقیقات کے لیے جمع کردہ شواہد کا حصہ ہے۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے تفتیش کاروں سے ملاقات کے لیے ان کا اس ہفتے دی ہیگ کا دورہ طے شدہ ہے۔

ابو ستہ نے کہا کہ انہوں نے جن متعدد تنازعات بشمول غزہ، عراق، شام، یمن اور جنوبی لبنان کی دیگر جنگوں میں کام کیا ہے، ان میں سے اس جنگ کی شدت سب سے زیادہ تھی۔

انہوں نے اتوار کو لندن میں ایک انٹرویو کے دوران اے ایف پی کو بتایا، "یہ سیلاب اور سونامی کے برابر کا فرق ہے -- پورا پیمانہ بالکل مختلف ہے۔"

"زخمیوں کی تعداد، آفت کا حجم، جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد، بمباری کی شدت، یہ حقیقت ہے کہ جنگ شروع ہونے کے چند ہی دنوں میں غزہ کا صحت کا نظام مکمل طور پر منہدم ہو گیا تھا۔"

5 دسمبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے مشرق میں واقع معن اسکول پر اسرائیلی حملوں کے بعد زخمی فلسطینیوں کو ناصر اسپتال میں امداد دی جارہی ہے۔ (رائٹرز)
5 دسمبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے مشرق میں واقع معن اسکول پر اسرائیلی حملوں کے بعد زخمی فلسطینیوں کو ناصر اسپتال میں امداد دی جارہی ہے۔ (رائٹرز)

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل مسلسل بے رحمانہ بمباری اور زمینی حملے کر رہا ہے جس میں کم از کم 22,835 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

کویت میں پیدا ہونے والے ابو ستہ جو 1980 کے عشرے کے آخر سے برطانیہ میں مقیم ہیں - 9 اکتوبر کو ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز تنظیم کی طبی ٹیم کے ہمراہ مصر سے غزہ پہنچے۔

انہوں نے یاد کیا، "شروع سے ہی ہماری صلاحیت زخمیوں کی تعداد سے کم تھی جن کا ہمیں علاج کرنا تھا۔ تیزی سے ہمیں اس بارے میں بہت مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے تھے کہ کس کا علاج کرنا تھا۔"

3 نومبر 2023 کو غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال کے دروازے پر ایمبولینسوں کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد فلسطینی نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ (رائٹرز)
3 نومبر 2023 کو غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال کے دروازے پر ایمبولینسوں کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد فلسطینی نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ (رائٹرز)

ابو ستہ کو ہسپتال آنے والا ایک 40 سالہ شخص یاد ہے جس کے سر میں (گولے سے نکلنے والا) لوہے کا ٹکڑا پیوست تھا۔ اسے سی ٹی اسکین کی ضرورت تھی اور ایک نیورو سرجن کے معائنے کی لیکن ان کے پاس نیورو سرجن نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کے بچوں کو بتایا اور وہ اس رات اس کی ٹرالی کے آس پاس رہے حتیٰ کہ وہ صبح چل بسا۔

ہسپتالوں میں بے ہوشی کی اور اینالجیسک ادویات بھی تیزی سے ختم ہو گئیں یعنی سرجن کو بغیر کسی امداد کے "زخموں کی صفائی کا واقعی تکلیف دہ طریقہ کار" انجام دینا پڑا۔

انہوں نے مزید کہا، "یا تو وہ ایسا کرتے یا انہیں زخموں کے انفیکشن سے اور سیپسس سے مرتے ہوئے دیکھتے۔ انہیں کوئی ایک کام کرنا تھا۔"

'باہر کی آواز'

ابو ستہ اس بات پر اٹل ہیں کہ انہوں نے سفید فاسفورس کی وجہ سے جلے ہوئے زخموں کا علاج کیا۔ کیمیائی ہتھیار کے طور پر اس کا استعمال بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے لیکن جنگ کے میدانوں کو روشن کرنے اور دھوئیں کی دیوار کے طور اس کے استعمال کی اجازت ہے۔

انہوں نے کہا۔ "اس کی ایک بہت مخصوص اور الگ شناخت کا حامل زخم ہوتا ہے۔"

"فاسفورس جسم کے انتہائی گہرے حصے تک جلتا رہتا ہے حتیٰ کہ آپ ہڈی تک پہنچ جاتے ہیں۔"

کیپشن: اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام بے گھر لوگوں کو پناہ دینے والے اسکول پر اسرائیلی حملے کے بعد ایک فلسطینی بچہ رو رہا ہے۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)

ابو ستہ نے کہا کہ انہوں نے "بے کار" ہو جانے کے بعد غزہ چھوڑ دیا کیونکہ طبی سامان کی کمی کا مطلب ہے کہ وہ مزید سرجری نہیں کر سکتے۔

انہوں نے اپنا زیادہ وقت برطانیہ میں سیاست دانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو امداد کی فوری ضرورت پر بریفنگ دینے میں گذارا ہے۔

"میں باہر سے تقریباً ان ہی کی آواز بن کر اپنے مریضوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جنہیں پیچھے چھوڑ آیا ہوں۔"

میٹ نے کہا ہے کہ وہ فریقین کی جانب سے مبینہ جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت کی تحقیقات کے لیے ثبوت جمع کرنے کا پابند ہے۔

ابو ستہ نے کہا ہے کہ انہوں نے جو دیکھا، افسران کو اس کے بارے میں بتا دیا جس میں سفید فاسفورس کا استعمال اور شہریوں پر حملے شامل ہیں۔

انہوں نے 17 اکتوبر کو الاہلی ہسپتال پر حملے میں زندہ بچ جانے کی بھی وضاحت کی جس کا الزام حماس اسرائیل پر عائد کرتا ہے۔

ابو ستہ نے کہا، "پانچ سالوں میں نہ سہی، 10 سال میں۔ (یا شاید) جب وہ 80 سال کے ہو جائیں گے۔ جب کبھی بھی دنیا میں طاقت کا توازن فلسطینیوں کے لیے انصاف کی اجازت دے گا، آخرِکار انصاف ان افراد کو مل کر رہے گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں