بیروت ہوائی اڈے کی اسکرینیں ہیک کرکے حزب اللہ اور ایران کے لیے انتباہی پیغام چلا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گذشتہ روز لبنان کےدارالحکومت بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سائبر حملے کے بعد پروازیں دوبارہ شروع کر دی گئیں ہیں۔

اتوار کی شام بیروت کے رفیق حریری بین الاقوامی ہوائی اڈے پر روانگی اور آمد کے ہالز کی اسکرینوں کو ہیکنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

سکرینوں پر ایک پیغام نمودار ہوا جس میں حزب اللہ سے بیروت ہوائی اڈے پر اپنا کنٹرول ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پیغام میں کہا گیا تھا کہ رفیق حریری ہوائی اڈہ "ایرانی ہوائی اڈہ نہیں ہے"۔ مسافر یہ حیران کن پیغام دیکھ کر حیران رہ گئے۔

سائبر حملہ آوروں نے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کو بھی پیغامات بھیجے کہ لبنان کو اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شامل نہ کیا جائے۔ لبنانی اپوزیشن گروپ "خدا کے سپاہی" کا لوگو اسکرینوں پر نمودار ہوا۔

ایک سکیورٹی ذریعے نے العربیہ کو بتایا کہ بیروت ایئرپورٹ پر سائبر حملے کے پیچھے ایک بیرونی فریق کا ہاتھ تھا۔

سکیورٹی ذرائع نے العربیہ سے بات کرتے ہوئےانکشاف کیا کہ بیروت ایئرپورٹ کے سسٹمز میں ایک وائرس داخل ہوا ہے جس کے لیے تمام سسٹمز کو دوبارہ پروگرام کرنے کی ضرورت ہے۔

ہوائی اڈے کی سکرینوں پر سائبر حملے کے باعث سامان کی جانچ پڑتال کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ ہوائی اڈے پر داخلی سکیورٹی فورسز کی انسپکشن پلاٹون اس وقت ہوائی اڈے پر معمول کی نقل و حرکت کو برقرار رکھنے کے لیے متبادل منصوبے پر عمل درآمد پر کام کر رہی ہے۔

بیروت ایئرپورٹ کی اسکرینوں ہیک ا اور حزب اللہ کے خلاف پیغام

لبنانی حکام نے تصدیق کی کہ فی الحال خرابی پر توجہ دی جا رہی ہے، جب کہ لبنانی مشرق وسطیٰ ایئر لائنز نے مسافروں کو پیغامات بھیجے، جس میں انہیں ہوائی اڈے کے اندر سکیورٹی فورس کی ہدایات پر عمل کرنے کا کہا گیا۔

7 اکتوبر سے لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان روزانہ بمباری کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ حزب اللہ اسرائیلی فوجی مقامات اور کیمپوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتی ہے، جب کہ اسرائیلی فوج فضائی اور توپ خانے کی بمباری سے جواب دیتی ہے۔

ہفتے کے روز تازہ ترین تعداد کے مطابق اسرائیل کے ساتھ سرحد پر کشیدگی کے نتیجے میں لبنانی جانب سے 181 افراد ہلاک ہوئے، جن میں حزب اللہ کے 135 ارکان بھی شامل ہیں۔

حزب اللہ کے مضبوط گڑھ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں منگل کو ایک فضائی حملے میں حماس کے سیاسی بیورو کے نائب سربراہ صالح العاروری کے قتل کے بعد جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ بڑھ گیا۔ لبنانی حکام، حزب اللہ، حماس اور واشنگٹن نے کہا ہے کہ یہ کارروائی اسرائیل نے کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں