جیکٹ اور قلم کے علاوہ مرحوم موسیقار طارق عبد الحکیم کے متروکہ سامان میں اور کیا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے معروف موسیقار طارق عبدالحکیم کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کی یادیں ان مداحوں کا سہارا ہیں۔ ان کی یادوں میں موسیقی کے علاوہ ان کے استعمال میں رہنے والی چند اہم چیزیں بھی ہیں جنہیں ایک کمرے میں عجائب گھر کی شکل میں سجایا گیا ہے۔

ان کے ذاتی سامان اور ان کے اپنے آلات موسیقی میں سے مشہور ان کی دھنیں منصور اور نورا الوعل جوڑے کے کانوں سے گونج اٹھیں جو اپنے بچوں کے ساتھ مرحوم موسیقار کے میوزیم میں آئے تھے۔

اس میوزیم کا حال ہی میں وزارت داخلہ نے جدہ کے تاریخی علاق میں ثقافتی اہمیت کے پیش نظر افتتاح کیا تھا۔

طارق عبدالحکیم کی اولاد جن میں ان کے بچے اور پوتے پوتیاں شامل ہیں نے ان کے زیراستعمال اشیاء کو جمع کرکے اسے ایک یادگار میوزیم قائم کرلیا۔

فوجی وردی
فوجی وردی

ان میں مرحوم کی فوجی جیکٹ اور ایک قلم بھی شامل ہے۔ یہ جیکٹ ان کی بیس سال کی عمر کے دوران فوجی خدمات کے دوران کی یادگار ہے۔

ان کے انتقال کے تقریباً 13 سال بعد وزارت ثقافت نے طارق عبد الحکیم میوزیم سنٹر قائم کرکے مرحوم کے تجربے کو عوام کے لیے کھول دیا ہے۔ میوزم کے اندر داخل ہوتے ہی آپ ان کے اثاثوں کی تفصیلات دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ ان باقیات میں 1920ء کی دہائی سے اس کی فوجی جیکٹ، گریگورین کیلنڈر، ان کے والد عبدالکریم کی جیکٹ، اس کے علاوہ اس کے پسندیدہ لباس جیسے سدیری لباس اور تین منہ والی میوزیکل کلید شامل ہیں۔

قلم اور میوزیکل نوٹ
قلم اور میوزیکل نوٹ

دوسری جانب العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم نے نمائش کا دورہ کیا۔اس موقعے پر بھی زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

میوزم میں آنے والوں کو طائف شہر کے اثر و رسوخ کی کہانی ملتی ہے، جو طارق عبد الحکیم کی موسیقی کی شناخت پر محفوظ پہاڑی محفوظ ہے۔

معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ مرکز جس میں مرحوم کے میوزیم میں ایک خصوصی گائیکی اور میوزیکل ریسرچ سنٹر قائم کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ محققین اور موسیقی میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے آرکائیونگ کی خدمات بھی دستیاب ہوں گی، جب کہ اگلے مرحلے میں اس میں مزید توسیع کی جائے گی۔

ان کی تحریروں کا حصہ
ان کی تحریروں کا حصہ

سعودی موسیقار طارق الحکیم 1920ء میں طائف شہرکے ایک نواحی علاقے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے طائف سکول میں سنہ 1345ھ میں داخلہ لیا، ان کا انتقال 21 فروری 2012ء کو قاہرہ میںن کینسر کی بیماری کےباعث ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں