لبنانی گاؤں میں ٹارگیٹڈ بمباری، حزب اللہ کا کار سوار سینئیر کمانڈر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل جس کے بڑے اتحادی ان دنوں مشرق وسطیٰ کے دورے پرہیں اور ملکوں ملکوں گھوم کر علاقائی قیادت کو خطے میں جنگ کے پھیلنے سے روکنے میں کرداد ادا کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ مگراسرائیل نے غزہ کی جنگ کو اب غزہ سے باہر بھی باقاعدہ شکل دینے کی کوشش تیز کر دی ہے۔

لبنانی سرحد کے علاوہ لبنان کے اندر تک اسرائیلی حملے، بمباری اور ڈرونز کے ذریعے میزائلوں کا داغا جانا معمول بن رہا ہے۔ پیر کے روز بھی اسرائیل کی ایسی ہی ایک 'ٹارگیٹڈ' بمباری حزب اللہ کے ایک سینئیر کمانڈر کی گاڑی پر کی گئی۔ جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گیا۔

حزب اللہ کے اس کمانڈر کی شناخت وسام الطویل بتائی گئی ہے جو حزب اللہ کے ایک یونٹ میں نائب کمانڈر تھا۔ وہ حزب اللہ کی رضوان فورس سے وابستہ تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ کمانڈر پیر کے روز لبنان کے ایک گاؤں مدجل سیلم میں اپنی گاڑی پر سوار کہیں جارہا تھا کہ اسرائیل نے اس کی گاڑی کو بمباری کا نشانہ بنادیا، جس سے اس کی ہلاکت ہو گئی۔

اسرائیل کو للکارنے اور بیانات دینے کے حوالے سے حزب اللہ نے ان دنوں میڈیا میں کافی جگہ پائی ہے مگر عملی طور پر اسرائیلی کارروائیاں اب اسرائیل لبنان سرحد سے آگے بڑھ کر لبنان کے اندر تک ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

واضح رہے سات اکتوبر سے اب تک حزب اللہ کے 130 جنگجو اسرائیلی بمباری اور گولہ باری سے ہلاک ہو چکےہیں۔ جبکہ اسرائیلی سرحد کے پار اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات اس تعداد کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔

علاوہ ازیں شام میں بھی 19 جنگجو اسرائیلی بمباری سے نشانہ بن کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ سب ہلاک شدہ افراد ایرانی حمایت یافتہ سمجھے جاتے ہیں۔

دوسری جانب حزب اللہ کے سربراہ حسن نصرا للہ نے اس صورت حال میں چند روز اسرائیل کو دھمکی دی تھی کہ 'جو بھی ہمارے ساتھ جنگ کا سوچے گا اسے پچھتانا پڑے گا۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں