اسرائیلی فوج کا شام میں حماس کے ایک سینیر کمانڈر حسن عکاشہ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے شام میں حماس کے ایک اہلکار کو ہلاک کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے دعوے کے مطابق مقتول کمانڈر حالیہ ہفتوں میں شمالی اسرائیل پر راکٹ داغنے کا ذمہ دار تھا۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حسن عکاشہ کو جنوبی شام کے قصبے بیت جن میں مارا گیا۔ تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ اسے کیسے مارا گیا۔

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے پیر کے روز کہا تھا کہ ''اسرائیلی فوج نے غزہ میں زمینی کارروائی کا ایک نیا، کم شدید مرحلہ شروع کیا ہے۔ یہ فیصلہ کئی ہفتوں کی شدید بمباری، تباہی اور قتل عام کے بعد امریکا اور دیگر اتحادیوں کی جانب سے کیے گئے دباؤ کے بعد کیا گیا ہے‘‘۔

ہاگری نے امریکی اخبار "نیو یارک ٹائمز" کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ "اسرائیلی مہم پہلے ہی ایک مہم میں تبدیل ہونا شروع ہو چکی ہے جس میں زمینی افواج اور فضائی حملوں کی کم تعداد شامل ہے"۔

اسرائیلی نیوز چینل "iNews 24" نے رپورٹ کیا کہ "جنگ ایک نئے مرحلے تبدیل ہوگئی ہے لیکن منتقلی بغیر کسی تقریب کے ہوگی۔ یہ ڈرامائی اعلانات کے بارے میں نہیں ہے"۔

ہاگری نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں اپنی افواج کی تعداد میں کمی جاری رکھے گی جیسا کہ اس نے اس ماہ کے شروع میں کرنا شروع کیا تھا۔

ہاگری نے نشاندہی کی کہ خاص طور پر شمالی غزہ کی پٹی میں لڑائی کی شدت میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے کیونکہ اسرائیلی فوج بڑے پیمانے پر کارروائیوں کے بجائے مزید ٹارگٹڈ چھاپے مارنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اب توجہ وسطی اور جنوبی غزہ میں حماس کے مضبوط ٹھکانوں جیسے خان یونس اور دیر البلح پر مرکوز ہو گی۔

آئی ڈی ایف کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کا مقصد غزہ تک مزید انسانی امداد کی فراہمی میں سہولت فراہم کرنا ہے، جس میں اپنے گھروں سے بے گھر ہونے والے تقریباً 20 لاکھ افراد کو پناہ دینے کے لیے خیمے بھی شامل ہیں۔

ہاگری کے مطابق اسرائیل نسل کشی کا ارتکاب نہیں کر رہا ہے، کیونکہ عالمی عدالت انصاف اس ہفتے کے آخر میں اس معاملے پر فیصلہ سنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کر رہی ہے، جب کہ حماس اپنے جنگجوؤں کو عام شہریوں میں گھسا رکھا ہے۔

ان کے یہ بیانات امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے مشرق وسطیٰ کے ایک کثیر جہتی دورے کے ایک حصے کے طور پر اسرائیل پہنچنے سے چند گھنٹے قبل سامنے آئے ہیں جس کا مقصد غزہ کے تنازع کو وسیع تر علاقائی جنگ میں بڑھنے سے روکنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں