فلسطین اسرائیل تنازع

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن اسرائیل کے دورے پر تل ابیب پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارت کار تین ماہ سے جاری اسرائیل جنگ کے دوران چوتھی بار اسرائیل کے دورے پر تل ابیب پہنچ گئے ہیں۔ پیر کی رات وہ کئی عرب ملکوں سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں۔

بلینکن ترکیہ اور یونان سے ہوتے ہوئے کئی دن سے مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ تاکہ غزہ کی جنگ کو غزہ سے باہر پھیلنے سے روکنے کے علاوہ حماس کے بغیر غزہ کے مستقبل پر تبادلہ خیال کر سکیں۔

بلینکن کا یہ اسرائیلی دورہ پیر کی رات اس وقت شروع ہوا جب اسرائیل نے چند گھنٹے قبل غزہ پر اپنی وحشیانہ بمباری جاری رکھی تھی، نیز حزب اللہ کے سینئیر کمانڈر کی کار پر ایک لبنانی گاؤں میں بمباری کر کے اسے بھی ہلاک کر دیا۔

لبنان کے اندر ایک ہفتے کے دوران اسرائیل کی یہ دوسری بڑی کارروائی تھی۔ پچھلے منگل کو حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری کو بیروت کے مضافات میں اسرائیل نے ڈرون حملے میں ہلاک کیا تھا۔

ادھر غزہ میں حماس کے جنگجو زمین پر اسرائیلی فوج کے ساتھ گلی کوچوں میں نبرد آزما ہیں۔ جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں اپنی جنگ کا 'فوکس' اب وسطی اور جنوبی غزہ کی طرف کر دیا ہے۔

حماس کی طرف سے اسرائیل کے اندر راکٹ پیر کے روز بھی فائر کیے جاتے رہے اور اسرائیل میں خطرے کے سائرن بجتے رہے۔ اسرائیل کے شمال میں لبنان کی جانب بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ یہ بات امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے زیادہ تشویشناک ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ سات اکتوبر کے بعد سے مسلسل حماس کی حمایت میں اسرائیلی سرحد کے پار تک اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش میں ہے تاکہ اسرائیل کو غزہ کےساتھ ساتھ لبنان کی سرحد پر بھی مصروف رکھے رکھے۔

پیر کے روز ہی حزب اللہ نے اپنے ہلاک ہونے والے کمانڈر کا نام پہلی بار منظرعام پر بیان کیا ہے کہ یہ کمانڈر وسام حسن الطویل تھے، جنہیں مدجل نامی گاؤں میں اپنی کار پر سفر کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ حزب اللہ نے اپنے کمانڈر کی ہلاکت کو یروشلم سے منسوب کیا ہے۔

جبکہ اسرائیل نے بھی پیر کے روز حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے، تاہم حزب اللہ ے کمانڈر الطویل کی ہلاکت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ ایک ہفتے کے دوران لبنان کے اندر اسرائیل کی یہ دوسری بڑی کارروائی رہی ہے۔

پچھلے منگل کے روز حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری کو بیروت کے مضافاتی علاقے میں ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ یہ علاقہ حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

ادھر پپیر کے روز اسرائیلی فوج نے حماس کے راکٹ حملوں کے سلسلے میں اہم نام حسن عکاشہ کو شام میں ہلاک کرنے کی اطلاع دیا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ امریکی رائے پر اسرائیل نے ' سرجیکل سٹرائیکس ' کا اہتمام کر لیا ہے۔

تاہم ابھی تک اسرائیل کے تین اہداف ' حماس کا خاتمہ ، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ سے خطرے کا مکمل خاتمے کا اطمینان ممکن نہیں ہوا ہے۔ البتہ 23084 فلسطینی غزہ میں ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ اسرائیلی بمباری اور ٹینکوں کی بے رحمانہ گولہ باری کے نتیجے میں عوروں اور بچوں کی ہلاکت کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

غزہ میں بھی اسرائیلی فوج کی بمباری اور حملوں کے واقعات میں اب تک تین سو سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ ان میں دو روز قبل اسرائیلی پولیس کی طرف سے ہلاک کی گئی تین سالہ بچی اور جنین کے پناہ گزین کیمپ میں چار سگے بھائیوں سمیت چھ فلسطینیوں کی ہلاکت تازہ واقعہ ہے۔ جو بلینکن کی اسرائیل آمد سے پہلے کی گئی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے اپنے مشرق وسطیٰ کے دورے میں اب تک غزہ کی جنگ کو غزہ میں رکھنے، اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرانے اور بعد از حماس غزہ کے لیے کنٹرول کے علاوہ عرب دنیا سے اسرائیلی بمباری کے باعث مکمل تباہ شدہ شہر کی تعمیر نو کے لیے فنڈز کی بات کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں