ہمارے پیاروں کورہا کرایا جائے:اسرائیلی یرغمالیوں کے اقارب کا کرم سالم‘ کراسنگ پردھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں شدید جنگ کو تین ماہ گذر چکے ہیں۔ دوسری جانب غزہ میں حماس کے زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کے اقارب کے غم وغصے میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ جنگ بندی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔

"ہمارے پیارے مر رہے ہیں ہم کب تک انتظار کریں ؟"

حالیہ عرصے کے دوران دوسری جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد اسرائیلی یرغمالیوں کے اقارب کی بڑی تعداد نے غزہ اور اسرائیل کے درمیان قائم کرم ابو سالم کراسنگ پر دھاوا بول دیا تاہم سکیورٹی فورسز نے کراسنگ کو بند کردیا۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی پولیس نے غزہ میں زیر حراست افراد کے اہل خانہ کو گرفتار کیا جنہوں نے یہ بہانہ بنا کر کراسنگ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی کہ یہ ایک بند فوجی علاقہ ہے۔

اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ کی جانب سے کرم سالم کراسنگ کو بند کرنے اور غزہ کی پٹی میں امداد کے داخلے کو روکنے کی کوشش کے بعد سامنے آیا ہے۔

دریں اثنا مغوی80 سالہ شخص کی بہو یورام میٹزگر نے چیخ کرکہا کہ "وہ کب تک زندہ رہے گا؟"۔انہوں نے کہا کہ ان کے عزیزوں کو اتنےعرصے سے یرغمال بنایا گیا ہے مگر حکومت کچھ نہیں کرسکی۔ ہم کب تک انتظار کریں۔

"اگر یہ تمہارا بیٹا ہے تو؟"

قابل ذکر ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کی وجہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے تھے جب وہ گذشتہ پیر کو کنیسٹ میں تقریر کر رہے تھے۔

زیر حراست افراد کے رشتہ دار، اپنے بچوں کی نشانیاں اور تصویریں اٹھائے ہوئے نعرے لگا رہے تھے۔ "ابھی نہیں تو کبھی نہیں"۔ نیتن یاہوکے اس بیان کے ردعمل میں کہ اسرائیلی فوج کو غزہ کی پٹی میں فوجی آپریشن مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں