تہران میں قید جرمن-ایرانی خاتون کی مشروط رہائی: بیٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک جرمن-ایرانی خاتون کی بیٹی نے کہا کہ ان کو بگڑتی صحت کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان منگل کے روز تہران کی جیل سے سخت شرائط پر رہا کیا گیا ہے جنہیں "گھر میں نظر بندی" قرار دیا جا سکتا ہے۔

ناہید تقوی جو اپنی عمر کے 60 کے عشرے میں ہیں، کو اکتوبر 2020 میں تہران میں ان کے اپارٹمنٹ سے گرفتاری کے بعد اگست 2021 میں 10 سال اور آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی اور انہیں ایون جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا تھا جو سیاسی قیدیوں کو رکھنے کے لیے بدنام ہے۔

وہ ایران میں زیرِ حراست مغربی پاسپورٹ کے حامل افراد کے ایک گروپ میں شامل تھیں جنہیں حقوق کے گروپوں کے مطابق تہران کی جانب سے مراعات حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو یرغمال بنانے کی دانستہ پالیسی کے تحت رکھا گیا تھا۔

ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک بیان میں ان کی بیٹی مریم کلیرن نے کہا کہ ان کی والدہ کو منگل کی صبح "عارضی طور پر رہا کر دیا گیا"۔

انہوں نے لکھا، "بدقسمتی سے ناہید کو قید سے رخصت کے دوران الیکٹرانک ٹخنوں کا ٹیگ پہننا پڑتا ہے۔ ناہید کی نقل و حرکت تہران میں ان کے اپارٹمنٹ سے 1,000 میٹر (گز) تک محدود رہے گی۔"

اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کی رہائی "گھر میں نظر بندی" کی طرح ہے لیکن انہوں نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ "ان کی غیر مشروط رہائی کے لیے ایک اہم پہلا قدم ہے۔"

جرمنی کی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار کرسچن بک نے "طبی بنیادوں پر" تقوی کی رہائی کو "ایک اہم پہلا قدم" قرار دیا۔

انہوں نے لکھا، "ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتھک محنت جاری رکھے ہوئے ہیں کہ ناہید تقوی کو ان کے خاندان سے ملا دیا جائے۔"

ساتھی قیدی اور حقوق کی ممتاز کارکن نرگس محمدی جنھیں گذشتہ سال امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا، نے جون میں خبردار کیا تھا کہ تقوی کی جان کو خطرہ تھا جس کے بعد یہ اقدام سامنے آیا۔

محمدی نے انسٹاگرام پر لکھا کہ تقوی بمشکل بستر سے اٹھ سکتی تھیں اور ان کا درد "اتنا شدید تھا کہ ان کے چہرے پر دیکھا جا سکتا تھا۔"

تقوی کو 2022 میں مختصر طبی رخصت کی اجازت دی گئی تھی لیکن ان کے اہل خانہ کے مطابق وہ صحت یاب ہونے سے پہلے ہی جیل واپس آ گئی تھیں۔

محمدی نے کہا کہ تقوی کی طویل قیدِ تنہائی نے ان کی ریڑھ کی ہڈی کی موجودہ حالت کو خراب کر دیا تھا اور اب وہ سروائیکل ڈسک کے مسائل، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر میں بھی مبتلا تھیں۔

تقوی کو برطانوی-ایرانی مہران رؤف کے ساتھ قومی سلامتی کے خلاف الزامات پر سزا سنائی گئی تھی جو اب بھی زیرِ حراست ہیں۔ ان کا خاندان ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں