حزب اللہ کے خلاف ممکنہ جنگ کے تناظرمیں اسرائیل نے تیاری شروع کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحد پر جھڑپوں اور اسرائیل کی طرف سے لبنان کے اندر کی جانے والی فوجی کارروائیوں کے بعد علاقائی اور عالمی سطح پر غزہ جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ غزہ کی پٹی میں جاری جنگ اگلے مرحلے میں لبنان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ کا دائرہ نہ صرف لبنان تک پھیل جائے گا بلکہ عراق، شام اور یمن جیسے محاذ بھی کھل سکتے ہیں۔

اسرائیل بھی عملی طور پر تیار

تل ابیب میں وزارت صحت کی وضاحت کے مطابق اسرائیلی حکام نے ایک ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری شروع کر دی ہے جو شمالی علاقوں کو ایک "تنہائی زدہ جزیرے" میں تبدیل کر سکتا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ممکنہ طور پر حزب اللہ کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد جوابی حملے میں بڑی تعداد میں اسرائیلی متاثر ہوسکتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کیا کہ وزارت صحت نے شمالی علاقوں میں واقع تمام ہسپتالوں اور طبی مراکز کو ہدایات جاری کیں اور ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ طبی عملے کے زخمی ہونے کے علاوہ ہزاروں زخمیوں کی آمد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ .

ہدایات میں ایک ایسے منظر نامے کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے جس میں حکام کو طبی اور خوراک کا سامان اور شمالی قصبوں اور بستیوں کو ہسپتالوں کو محروم ہونے کے امکانات کے پیش نظر تیاری کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے کل منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ حزب اللہ ملیشیا کے ساتھ ممکنہ کشیدگی میں اضافے توقع ہے جس کے بعد ممکنہ لڑائی کے پیش نظر وزارت صحت کی طرف سے دیگر اداروں کے تعاون سے تیار کردہ ایک منظر نامے پر بات ہوئی ہے۔

ہدایات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مذکورہ بالا ہنگامی صورتحال طویل دنوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ ایسے میں اسرائیل کے بعض ایسے علاقے بھی ہوسکتے ہیں جہاں تک خوراک اور ادویات کی رسائی معطل ہوجائے گی۔

چینل نے نشاندہی کی کہ وزارت صحت کی جانب سے ایک سرکلر شمال کے تمام ہسپتالوں تک پہنچایا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ وہ ہزاروں زخمیوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے تیار رہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں