فلسطین اسرائیل تنازع

حماس رہنما صالح العاروری کی لبنان میں ہلاکت قابل مذمت ہے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے بین الاقوامی قوانین کے ماہرین نے لبنان میں حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری کو اسرائیلی ڈرون حملے میں ہلاک کیے جانے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے' کسی بھی دوسرے ملک کی حدود میں اس طرح کی کارروائی بین الاقوامی قانون میں جائز نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ من مانی کرنے کے مترادف ہوتی ہے۔

اقوام متحدہ کے دو خصوصی نمائندوں اور بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے بین ساؤل او مورس ٹڈبال نے یہ بات منگل کے روز جنیوا سے جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہی ہے ۔ حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری کی لبنان میں ہلاکت کے بعد اقوام متحدہ کے ماہرین کا یہ بیان ایک ہفتہ بعد پوری طرح سوچنے سمھجنے اور متعلقہ قوانین کاجائزہ لینے کے بعد سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے اس واقعے کو اگرچہ براہ راست تسلیم نہیں کیا ہے لیکن یہ اسرائیلی کے اعلیٰ عہدے داروں کی طرف سے ایک ماہ سے چلے آرہے بیانات کے بالکل مطابق واقعہ تھا ۔ اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل نے اس واقعے میں اپنے ملوث ہونے کی آج تک تردید بھی نہیں کی ہے۔ بس خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق ' کسی بھی غیر ملک کی حدود میں بغیر کسی قانونی جواز کےاس طرح کی کارروائی کرنا کسی قانونی طور پر درست ہے اور نہ بین الاقوامی قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں '

'یو این ' ماہرین نے زور دے کر کہا ہے ' اسرائیل لبنان میں اپنے کسی دفاع کی مشق نہیں کر رہا تھا، نہ ہی اس نے ایسے کوئی ثبوت پیش کیے ہیں۔ کہ لبنانی سرزمین سے صالح العاروری اور ان کے ساتھ ہلاک ہونےوالے یہ لوگ اسرائیل پر کوئی حملہ کر رہے تھے۔'

صالح العاروری کو ان کے کئی ساتھیوں سمیت دو جنوری کو ایک ڈرون حملہ کرکے لبنانی دارالحکومت بیروت کے مضافات میں ہلاک کیا گیا تھا۔

اس واقعے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد اقوام متحدہ کے قانونی ماہرین کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی عدالت انصاف نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے حوالے سے اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کے دائرہ کردہ مقدمے کی سماعت شروع کرنے کی تاریخ دیدی ہے۔

واضح رہے یہ سماعت 11 جنوری سے شروع ہو گی۔ اقوم متحدہ کے ماہرین کا یہ بیان اسرائیل کے خلاف جرائم کے ارتکاب کی ایک اور گواہی کے طور پر سامنے آگیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے بیان میں یہ بھی واضح کیا ' کسی مسلح گروپ کے ارکان کے خلاف بھی جغرافیائی طور پر لامحدود حملوں کی قانونی بنیاد موجود نہیں ہے۔ کہ کوئی ملک جہاں چاہے کارروائی کر لے۔ یہ جائز نہیں ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں