جنگ کے بعد غزہ کا کوئی مثالی حل نہیں: برطانیہ میں سعودی سفیر

موجودہ اسرائیلی حکومت تنازع کو ختم کرنے کے بجائے تشدد پر عمل پیرا ہے: شہزادہ خالد بن بندر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

برطانیہ میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن بندر بن سلطان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں فوری جنگ بندی چاہتے ہیں۔

انہوں نے منگل کے روز برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں زور دیا کہ جنگ کے بعد کی صورت حال کا کوئی مثالی حل نہیں ہے۔ بین الاقوامی برادری ابھی تک جنگ بندی پر متفق نہیں ہوئی ہے۔ پہلے جنگ بندی پر متفق ہونے کی ضرورت ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے کردار پر بات کی جا سکتی ہے

لندن میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن بندر بن سلطان نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے پاس غزہ میں کردار ادا کرنے کے لیے بہت سے وسائل موجود ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی شمولیت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کردار کی نوعیت کا تعین فلسطینیوں، عالمی برادری اور اسرائیلیوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔

سعودی سفیر نے واضح کیا کہ انتہا پسندی کے بارے میں تشویش سعودی تشویش نہیں ہے بلکہ ہر ایک کے لیے تشویش ہے۔

انہوں نے دونوں فریقوں کی طرف سے تشدد کا سلسلہ بند کرنے کی ضروت پر زور دیا کیونکہ غزہ کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی ا پنے گھروں سے بے گھر ہو گئی تھی، جب کہ بیس ہزار سے زیادہ مارے گئے تھے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اس سطح سے نہ صرف فلسطینیوں بلکہ برطانیہ، فرانس، امریکا، کینیڈا، الجزائر، اردن، سعودی عرب، مصر اور یمن میں بھی امید کی کمی کی کیفیت پیدا ہوگی۔

ناکافی کو ششیں

سعودی سفیر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت اب بھی جنگ کے پہلے مرحلے کو ختم کرنے کی بات کر رہی ہے، جنگ روکنے کے لیے جو کوششیں کی گئی ہیں وہ ناکافی ہیں۔

برطانیہ کے موقف کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سفیر نے کہا کہ وہ برطانیہ کے موقف میں مزید اعتدال پسندی کی امید رکھتے ہیں اور وہ یہ دیکھنے کی امید رکھتے ہیں کہ پوری دنیا اسرائیل کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہے جیسا کہ وہ دوسروں کے ساتھ کرتا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر کسی اور نے وہی کیا جو اسرائیل نے کیا تو اسے عالمی برادری سے خارج کر دیا جائے گا اور اس پر پابندیوں اور دیگر معاملات بھی سامنے آئیں گے۔

نارملائزیشن فلسطینیوں کی قیمت پر نہیں

انہوں نے وضاحت کی کہ گذشتہ سات اکتوبر کو حماس کے حملے سے قبل مملکت اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالے سے بات چیت جاری تھی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان بات چیت میں جو چیز اہم ہے وہ یہ ہے کہ ان کے حتمی نتائج میں کم از کم ایک آزاد فلسطینی ریاست شامل ہو اور تعلقات معمول پر لانا فلسطینیوں کی قیمت پر نہیں ہو گا۔

سفیر نے منگل کو برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے بیانات میں مزید کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ حماس کے حملے کی وجہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا تھا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جو کچھ ہوا اس کے لیے منصوبہ بندی، محرکات اور دیگر معاملات میں ایک طویل وقت درکار تھا جن میں سے کم از کم فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا مسلسل قبضہ ایک اہم محرک تھا۔

یہ تنازعہ سو سال پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ 7 اکتوبر کے حملے کی وجہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی بات نہیں ہے۔

'مذاکرات تعطل کا شکار'

شہزادہ خالد بن بندر نے زور دے کر کہا کہ 7 اکتوبر کے حملے کے باوجود سعودی عرب اب بھی اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے 1982ء میں شاہ فہد کے عرب امن منصوبے کی طرف اشارہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ تاہم فلسطینی ریاست کے بغیر اسرائیل کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا فلسطینی ریاست کے قیام تک بات چیت کو معمول پر لانے کا عمل تعطل کا شکار رہے تو انہوں نے کہا کہ بات چیت واقعتاً تعطل کا شکار ہوئی تھی۔ حملے سے پہلے حالات معمول پر آنے کے قریب تھے۔ دوسری طرف ہم فلسطینی ریاست کے قیام کے قریب تھے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک مستحکم آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے بغیر کسی اور چیز کی اہمیت نہیں ہے، کیونکہ اس کا نتیجہ تنازع کا طویل مدتی حل فلسطینی ریاست کے بغیر اور کوئی نہیں ہو گا۔

جنگ کے بعد حماس کا کردار

اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ حماس کو غزہ کی جنگ کے سیاسی حل کے ایک حصے کے طور پر دیکھتے ہیں سعودی سفیر نے زور دیا کہ یہ معاملہ بہت سوچ بچار اور کام کا متقاضی ہے۔

سعودی سفیر نے برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو دیے گئے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج ہم آئرلینڈ کو دیکھیں تو برطانیہ میں چالیس سال پہلے اس کا ایک بڑا حصہ دہشت گردوں کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ تبدیلی کی مستقل گنجائش موجود ہے۔ .

سفیر نے کہا کہ جب کوئی جنگ چھڑتی ہے تو سب سے پہلے یہ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ دونوں فریق مسئلے کے پرامن حل میں ناکام رہے ہیں۔ جب دونوں فریق ہار جاتے ہیں تو تصفیہ کرنے کا ارادہ ہوتا ہے۔ تصفیہ کے بغیر کوئی حل نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت جس کے ساتھ دنیا کام کر رہی ہے ایک انتہا پسندانہ نقطہ نظر رکھتی ہے جو تصفیہ کے حصول کے لیے کام نہیں کرتی، اس کا مطلب ہے کہ تنازعہ ختم نہیں ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں