فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں فرانسیسی یرغمالی کی ماں نے جنگ بند کرنے کی اپیل کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس کی رہنےوالی 62 سالہ 'میری پسکیلے ریڈوکس' نے کہا ہے کہ وہ اپنے یرغمالی بیٹے 32سالہ اورین کے لئے بہت پریشان ہیں۔ اس کی صحت کے بھی کچھ مسائل ہیں۔ اس لئے میں نے وزیر اعظم اسرائیل نیتن یاہو سے اپیل کی ہے یرغمالیوں کو رہائی دلوانے کے لئے جنگ بندی کریں۔ کیونکہ جنگ بندی یرغمالی عورتوں اور مردوں سب کے لئے ضروری ہے۔

ریڈوکس نے حماس سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بھی یرغمالیوں کی رہائی کے لئے جنگ بندی قبول کریں یا کم از کم جنگ بندی کے قریب پہنچنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا جنگ بندی ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔ بچوں اور خاندانوں کے لیے بھی ۔

ریڈوکس نے ان خیالات کا اظہار 'اے ایف پی ' کےساتھ گفتگو میں کیا ہے۔ یہی مطالبہ ہم نیتن یاہو سے کر رہے ہیں۔ ریڈوکس نے مزید کہا ۔

واضح رہے 13 دسمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنی منظور کردہ ایک قرارداد میں بھی یہی مطالبہ کیا گیا ہے۔ لیکن اسرائیل کا کہنا ہے کہ جب تک وہ حماس کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا جنگ بند نہیں کی جائے گی۔

ریڈوکس نے کہا اویرن کی طیبعت پہلے ہی ٹھیک نہیں تھی اور اس بات کو بھی ایک لمبا عرصہ ہو گیا ہے۔ ان حالات میں میری اورین کے لیے بے چینی بڑھ گئی ہے۔ مجھے لگتا ہے میرے ساتھ بہت برا ہو رہا ہے۔ انہوں نے نیلے رنگ کا سکارف خوب سختی سے باندھ رکھا تھا جیسے وہ بیرونی دنیا سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل ہے کہ غزہ پر اندھا دھند انداز میں بمابری کر رہا ہے۔ اسرائیل کی اس کئی ماہ سے جاری بد ترین بمباری کی وجہ سے 23210 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

ریڈوکس نے بتایا کہ اورین نے حملے کے روز بھاگنے کی کوشش کی تھی مگر جنگجووں نے اسے پکڑ لیا اور غزہ لے گئے۔ اسرائیلی یرغمالیوں کی فہرست میں اورین کا نمبر اب بھی 132 ہے مگر اس کی ماں نہیں جانتی کہ اورین اب زندہ بھی ہے کہ نہیں ۔

اس پریشان ماں کے لیے امید کی خبر اسرائیل سے کوئی نہیں آرہی ، مگر صرف وہ فون کال جو اورین کے دوستوں میں سے کوئی کبھی کر دیتا ہے۔ اورین کے یہ دوست انہیں تسلی دیتے ہیں کہ پریشان نہ ہوں۔

'میں سوچتی ہوں کہ میں اپنے بیٹے کے لیے کچھ کر سکتی ہوں۔ ہر روز یہی سوچ کر میں اپنے پاؤں پرکھڑی ہوتی ہوں۔ لیکن وہ دن جب کچھ کرنے کو نہیں ہوتا وہ خوفناک ہو جاتا ہے۔ اضطراب اور بے چینی آپ کو کوئی مصروفیت آپ کو امید بھی دلاتی ہے اور پریشانی سے بھی بچاتی ہے۔ 'ریڈوکس نے کہا ۔

ریڈوکس ایک مصورہ ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ جس طرح کی زندگی سے گزر رہی ہیں ان کے پاس اس فن مصوری کے لیے وقت نہیں ہے۔ ریڈوکس نے کہا 'جب اورین کے دوستوں میں سے کسی کا فون آتا ہے تو خوشی ہوتی ہے کہ اورین کی واپسی کا بہت سے لوگوں کو انتظار ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں