غزہ میں قید اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے امریکہ کے صدارتی مشیر دوبارہ سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں حماس کے زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کا معاملہ تین ماہ سے جاری جنگ کے سب سے پیچیدہ معاملات میں سے ایک ہے۔

مذاکرات کا دوبارہ آغاز

حماس کی جانب سے گذشتہ ہفتے بیروت میں تنظیم کے سیاسی بیورو کے نائب سربراہ صالح العاروری کے قتل کے بعد مذاکرات ختم کردیے گئے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ جلد ہی اس معاملے میں جلد ہی پیش رفت ممکن ہے۔

اس معاملے سے واقف ایک امریکی ذرائع اور دیگر حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ کے امور کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کے سینیر مشیر بریٹ میک گورک نے منگل کو دوحا میں قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ الشیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی سے ملاقات کی۔

امریکی ’ایکسیوس‘ نیوز ویب سائٹ کے مطابق ذرائع نے مزید کہا کہ ملاقات میں علاقائی کشیدگی اور غزہ کی پٹی میں زیر حراست اسرائیلیوں کی رہائی کو محفوظ بنانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حراست میں لیے گئے افراد کے حوالے سے مذاکرات اس ہفتے دوبارہ شروع ہوئے جب حماس نے بیروت میں العاروری کے قتل کی وجہ سے انہیں کئی دنوں کے لیے معطل کر دیا تھا۔

یہ اعلان امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے تل ابیب کے دورے کے موقعے پر سامنے آیا ہے، جو کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ چھڑنے کے بعد چوتھی بار خطے کے دورے پر آئے۔

اگرچہ بلنکن نے اعلان کیا تھا کہ اس نے اسرائیلی رہ نماؤں پر زور دیا کہ وہ غزہ میں فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے مزید اقدامات کریں۔ انھوں نے اس سے قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے شروع کیے گئے بالواسطہ مذاکرات پر توجہ نہیں دی۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال سات اکتوبر کو فلسطینی دھڑوں نے تقریباً 240 قیدیوں کو حراست میں لے کر غزہ منتقل کردیا تھا۔ ان میں سے تقریباً 100 کو پچھلے سال نومبر میں مصری، قطری اور امریکی سرپرستی میں ہونے والے مذاکرات کے ذریعے رہا کیاگیا تھا جس کے بعد قیدیوں کی رہائی منجمد کردی گئی تھی اور اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ دوبارہ پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں