فلسطینیوں کی رقوم اور غزہ پرحکمرانی کے حوالے سے امریکا اور اسرائیل میں اختلافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں اگرچہ امریکا کی طرف سے اسرائیل کو امریکا کی ہرممکن حمایت حاصل ہے مگر دونوں اتحادی اور دوست ممالک کے درمیان بعض معاملات پر گہرے اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافی امور میں غزہ کی پٹی پر جنگ کےبعد حکومت اور فلسطینی اتھارٹی کے اسرائیل کے ذمہ واجب الاداء ٹیکسوں کی رقوم ہیں۔

معاہدے کے تحت اسرائیل بین الاقوامی گذرگاہوں، بندرگاہوں اور راہ داریوں پر اکھٹنا ہونے والے ٹیکس کو فلسطینیوں کو دینے کا پابند ہے مگر تل ابیب نے فلسطینیوں کے یہ ٹیکس کئی ماہ سےروک رکھے ہیں۔

امریکا متعدد بار اسرائیل سے مطالبہ کرچکا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کی رقوم اسے ادا کرے مگر اسرائیل مختلف حیلوں بہانوں سے یہ رقوم جاری کرنے سے گریزاں ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کے دورہ تل ابیب کے دوران بھی فلسطینیوں کی رقوم کا معاملہ زیر بحث آیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق بلنکن نے شمالی اسرائیل کے باشندوں کی بہ حفاظت اپنے گھروں کو واپسی، فلسطینی اتھارٹی کے فنڈز اور غزہ کی پٹی میں جنگ کے بعد کے حالات کے بارے میں کھل کر بات ہوئی۔

بلنکن کے اسرائیل کے دورے سے فلسطینیوں کے ساتھ نمٹنے سے متعلق متعدد نکات پر اختلافات اور تقسیم کا انکشاف ہوا، جن میں غزہ کا مستقبل، شہریوں کا تحفظ اور فلسطینی اتھارٹی کے ٹیکس فنڈز جن کی اوسلو معاہدے میں ضمانت دی گئی ہیں۔

ٹیکسوں کا پیسہ

واشنگٹن نے بارہا مالی وجوہات کی بنا پر رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے سقوط کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اسرائیل نے اس کو ٹیکس فنڈز منتقل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے کہا تھا کہ وہ فلسطینیوں کو کوئی رقم نہیں دے سکتے۔

غزہ کی حکمرانی

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تنازعہ کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ بلنکن نے غزہ کے مستقبل کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا جسے خطے کے دورے کے دوران عرب اور ترک رہ نماؤں کے ساتھ بات چیت کے دوران طے کیا گیا تھا۔

تاہم اخبار نے اطلاع دی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کو "اسرائیلی حکام کی طرف سے کوئی خاطر خواہ مثبت جواب نہیں ملا"۔

اسرائیلی حکام نے جنگ کے بعد حماس کے بغیرغزہ میں کردار ادا کرنے کے لیے ایک ایسی فلسطینی اتھارٹی کی تجویز دی جس میں حماس کا کوئی کردار نہ ہو۔

شہریوں کا تحفظ

اس کے علاوہ بلنکن نے منگل کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں شہریوں کو مزید نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ، خاص طور پر بچے، "بہت بھاری" قیمت ادا کر رہے ہیں۔

امریکی اخبار کے مطابق انٹونی بلنکن نے اسرائیل پر حماس کے خلاف اپنی جنگ میں شہری ہلاکتوں کو کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

متفق علیہ نکتہ

کم از کم ایک نکتہ جس پر بلنکن اور اسرائیلی حکام نے اتفاق کیا وہ یہ تھا کہ "اقوام متحدہ کو شمالی غزہ کے حالات کا جائزہ لینے کی اجازت ملنی چاہیے"۔ وہاں اسرائیلی بمباری سے گھروں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے معائنہ کار یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آیا شمالی غزہ کے باشندے اپنے گھروں کو کب تک واپس آسکتےہیں؟۔

لیکن اخبار کے مطابق اس کے لیے بھی کا وقت کا تعین ایک "اسٹکنگ پوائنٹ" بنا ہوا ہے۔

بلنکن نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ غزہ کے رہائشیوں کو جلد از جلد واپس آنے کے قابل ہونا چاہیے کیونکہ وہ بحفاظت ایسا کر سکتے ہیں، لیکن اسرائیلی حکام نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ "اس وقت تک فلسطینیوں کو شمالی غزہ کی پٹی میں واپس جانے کی اجازت نہیں دیں گے جب تک کہ حماس اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کر دیتی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں