فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہیں:بلنکن، نقل مکانی قبول نہیں: محمود عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس کی طرف سے جنوبی اسرائیل کی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حماس کے اچانک حملے کے بعد غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد چوتھی بار امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا۔ ہے۔ اپنے اس دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کی۔

فلسطینی ریاست کی حمایت اور نقل مکانی مسترد

سینیر امریکی اہلکار نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی اور انہیں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ٹھوس اقدامات کے لیے امریکی حمایت کا یقین دلایا۔

محمود عباس نے ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے ٹیکس فنڈز ’اوسلو‘ معاہدے کا حصہ ہےاور جس کی منتقلی سے اسرائیل انکار کرتا ہے۔ انہوں نے فلسطینی کلیئرنس فنڈز کو فوری طور پر جاری کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزراء کی طرف سے فلسطینی عوام کو بے دخل کرنے کا مطالبہ کرنے والے بیانات خطرناک ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ کسی بھی فلسطینی شہری کو بے گھر نہیں ہونے دیں گے چاہے وہ غزہ میں ہو یا مغربی کنارے میں ہو۔ ہم اسرائیلی وزراء کی طرف سے غزہ کے شہریوں کو جزیرہ سیناء کی طرف ہجرت پر مجبور کرنے کے بیانات کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ایسے بیانات ناقابل قبول ہیں۔

اس موقعے پر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ بلنکن نے صدر عباس کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی میں انتظامی اصلاحات کے بارے میں نتیجہ خیز مشاورت کی۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وزیرخارجہ نے محمود عباس کے ساتھ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد کا مقابلہ کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ ملاقات امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے تل ابیب کے دورے کے بعد ہوئی اور کل منگل کو اعلان کیا کہ انہوں نے اسرائیلی رہ نماؤں پر زور دیا کہ وہ فلسطینی شہریوں کے زخمیوں اور ہلاکتوں سے بچنے کے لیے مزید اقدامات کریں۔

انہوں نے ان بالواسطہ مذاکرات پر توجہ نہیں دی جو اس سے قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے شروع کیے گئے تھے۔

کل امریکی سیکرٹری خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی مہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جس میں کم شدید مرحلے میں چلے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں