ویڈیوسے ظاہر ہوتا ہےکہ اسرائیلی فوج نے بلا اشتعال 3 فلسطینیوں کو گولی ماردی،

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

مغربی کنارے کے ایک گاؤں کے سکیورٹی کیمرے کی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک نوجوان مرکزی چوک میں کھڑا ہے جب اسے اچانک گولی لگتی ہے اور وہ زمین پر گر جاتا ہے۔ اسرائیلی فوجی جیپوں کے آنے سے چند لمحے پہلے زخمی کی مدد کے لیے آنے والے دو دیگر افراد کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے جس سے ایک 17 سالہ نوجوان ہلاک ہو جاتا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے ویڈیو کے جائزے اور دو بچ جانے والے زخمیوں کے انٹرویوز میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے تینوں پر اس وقت گولی چلائی جب وہ کسی خطرے کا سبب نہیں تھے۔ زخمی فلسطینیوں میں سے ایک کو دوسری بار گولی ماری گئی جب اس نے اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی۔

بیت ریما کے گاؤں میں گذشتہ ہفتے ہونے والی ہلاکت خیز فائرنگ ان واقعات کے سلسلے کا تازہ ترین واقعہ ہے جس میں فوجی بلا اشتعال گولی چلاتے نظر آئے جس کے بارے میں فلسطینی کہتے ہیں کہ یہ رجحان تین ماہ قبل غزہ میں اسرائیل اور حماس کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے مزید خراب ہو گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ فوجی جمعرات اور جمعے کی رات بیت ریما میں "انسدادِ دہشت گردی کارروائی" کے ایک حصے کے طور پر داخل ہوئے۔ اس میں کہا گیا کہ فوجیوں نے مشتبہ افراد پر فائرنگ کی جنہوں نے ان پر دھماکہ خیز مواد اور دستی بم پھینکے۔

سگریٹ کی مقامی دکان سے اے پی کی حاصل کردہ ویڈیو میں کسی کو دھماکہ خیز مواد پھینکتے ہوئے نہیں دکھایا گیا ہے۔

فوٹیج کا جائزہ لینے کے بعد ایک فوجی ترجمان نے کہا کہ فوجیوں نے اطلاع دی ہے کہ ایک فلسطینی - جو فریم سے ذرا باہر کسی چیز کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا - مولوٹوف کاک ٹیل کو آگ لگا رہا تھا جب اسے گولی ماری گئی۔

تاہم ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ پہلی گولی گھٹنے ٹیکنے والے شخص کو نہیں بلکہ ایک اور فلسطینی شخص نادر رماوی کو لگی۔ نادر نے اے پی کو بتایا کہ یہ گتے کے ڈبوں اور ردی کاغذوں کا ایک ڈھیر تھا جسے 17 سالہ اسید رماوی نے جمع کیا اور جلانے کی تیاری کر رہا تھا تاکہ وہ گرمائش حاصل کرتے۔

شوٹنگ کی دیگر ویڈیوز جو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئیں اور ان کا جائزہ لیا گیا ہے وہ نادر کے اس چیز کے بارے میں بیان سے مطابقت رکھتی ہیں جنہیں اسید جلانے کی تیاری کر رہا تھا۔ یہ ممکن ہے کہ دوسرے زاویوں سے لی گئی ویڈیوز مزید روشنی ڈالیں کہ کیا ہوا۔

اے پی کے ساتھ انٹرویو میں گاؤں کے زخمی رہائشیوں نے دھماکہ خیز مواد پھینکنے کی تردید کی اور کہا کہ جمعہ کو رات 2 بجے کے قریب فائرنگ بلا اشتعال تھی۔

چھ رماوی بھائیوں میں سے دو قصبے کے چوک میں تھے جب اسرائیلی فوجیوں کی گاؤں میں موجودگی کی خبر پھیلی۔ انہوں نے کہا کہ وہ فوج کی موجودگی سے آگاہ تھے لیکن یہ کہ کوئی تصادم نہیں ہوا۔ 25 سالہ محمد رماوی نے کہا، "ہم قصبے کے گول چکر پر کھڑے نوجوانوں کے ساتھ تھے۔ جب ہم کھڑے تھے تو ادھر ادھر دیکھنے لگے اور کچھ نہیں کر رہے تھے۔

سکیورٹی کیمرے کی آدھے گھنٹے کی ویڈیو فائرنگ سے تقریباً 20 منٹ پہلے شروع ہوتی ہے جس میں آدمی چھوٹے گروپوں میں جمع ہوتے ہیں، فریم کے اندر اور باہر آتے جاتے ہیں جبکہ گاڑیاں گذرتی ہیں۔ کچھ آدمی گاؤں میں کہیں اور اشارہ کرتے ہیں۔

فریم میں ہجوم آخرکار 10 سے کم آدمیوں تک رہ جاتا ہے۔ پھر وہ بکھر جاتے ہیں جب ایک گولی محمد کے بھائی 29 سالہ نادر کو بائیں ٹانگ میں لگتی ہے۔

ویڈیو میں گولی لگنے سے پہلے محمد کو مدد کے لیے بھاگتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

محمد نے کہا جسے دائیں کولہے میں گولی لگی تھی، "ہم نے ایک سنائپر کو دیکھا جس نے گولی چلانا شروع کر دی۔ اس نے اسے گولی ماری۔ میں اس کی مدد کرنے گیا۔ پھر اس نے مجھے گولی مار دی۔"

ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ اسید ان کی مدد کے لیے دوڑتا ہے جب وہ اپنی جیب میں کچھ ڈالتا ہے۔ اسے جلدی سے گولی مار دی جاتی ہے اور بعد میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مر جاتا ہے۔ اس کے بھائی اسلام رماوی نے بعد میں اے پی کو بتایا کہ اسے اسید کی جیب سے ایک لائٹر، 20 شیکل ($5.36) اور سگریٹ کا ایک پیکٹ ملا۔

محمد رینگنے کے قابل تھا لیکن باقی دو زمین پر لڑھکتے رہ گئے۔ نادر نے کھڑے ہو کر دور بھاگنے کی کوشش کی، اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ زمین پر گر جائے۔ دنوں بعد اپنے ہسپتال کے بستر سے بات کرتے ہوئے نادر نے کہا کہ وہ اپنی دائیں ٹانگ میں گولی لگنے کے بعد گر گیا۔

بندوقیں اٹھائے اسرائیلی فوجیوں کے علاوہ پوری ویڈیو میں کوئی ہتھیار نظر نہیں آتا۔ گولی چلانے والا بھی نظر نہیں آ رہا۔

ویڈیو میں چار بکتر بند اسرائیلی گاڑیاں فائرنگ کے تقریباً 2 منٹ بعد پہنچتے ہوئے اور تقریباً ایک درجن فوجیوں کو بندوقوں کے ساتھ باہر نکلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ محمد کے گرد جمع ہو گئے۔ ایک سپاہی نے اسید کو اپنے پاؤں سے چھیڑا۔ 4 منٹ کے اندر فوجیوں نے زخمی فلسطینیوں کو زمین پر چھوڑ دیا اور ڈبوں کے ڈھیر کو نظر انداز کرتے ہوئے اور انہیں گرفتار نہ کرتے ہوئے بھاگ گئے۔

اے پی کی جائزہ شدہ شوٹنگ کی ایک اور ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ زخمیوں کو نکالنے کے لیے دوڑتی ہوئی ایک فلسطینی گاڑی نے ڈبوں کے ڈھیر کو گرا دیا۔

کچھ ہی دیر بعد اسید — ایک ہائی اسکول کا طالب علم جو حجام بننے کے لیے پڑھ رہا تھا — کو قریبی اسپتال میں مردہ قرار دے دیا گیا۔

فوجی ترجمان نے کہا کہ ایسی اور مثالیں بھی ہیں جہاں فلسطینیوں نے اس رات بیت ریما میں فورسز پر مولوٹوف کاک ٹیل پھینکے تھے لیکن کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ کب ایسا ہوا۔ ویڈیو میں گولی سے زخمی ہونے والے آدمی کہتے ہیں کہ بیت ریما میں یہ واحد تنازع تھا جس کے بارے میں وہ اس رات واقف تھے۔

جب یہ پوچھا گیا کہ کیا فوجیوں نے فوجی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے تو فوج نے کوئی جواب نہیں دیا اور یہ نہیں بتایا کہ آیا اس کی سرکاری تحقیقات ہوں گی۔

اسرائیلی حقوق کے گروپ بتسلیم نے کہا اگر قابلِ اعتراض فائرنگ کیمرے میں پکڑی جائے اور فوج کی طرف سے تحقیقات کی جائیں تو ان کے نتیجے میں شاذ و نادر ہی فردِ جرم عائد ہوتی ہے۔

اس گروپ کی ترجمان ڈرور سدوت نے کہا، "اس طرح کے معاملات کافی باقاعدگی سے ہوتے ہیں لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ فوج کہے گی کہ وہ تحقیقات شروع کر رہی ہے۔ اور یہ تفتیش برسوں تک جاری رہے گی اور شاید کسی میڈیا میں اس کی کوریج نہ ہو۔ اور پھر سرد خانے کی نذر ہو جائے گی۔"

سدوت کے الزام کے جواب میں ایک فوجی ترجمان نے یہ بیان دیا: "ہر تفتیشی فائل کو اس کے حالات کے مطابق جانچا جاتا ہے۔ مناسب مقدمات میں مختلف نفاذ کے اقدامات کیے جاتے ہیں جن میں فردِ جرم دائر کرنا بھی شامل ہے۔"

انسانی حقوق کے گروپوں نے اس سے قبل ایسے کیسز پیش کیے ہیں جن میں فوجیوں نے اپنی جان کے لیے کسی خطرے کے بغیر فائرنگ کر دی جو فوج کے قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ زیادہ تر واقعات میں جاں بحق ہونے والے فلسطینی تھے لیکن جنگ کے دوران ہائی پروفائل فائرنگ میں اسرائیلی بھی مارے گئے ہیں۔

دسمبر میں غزہ میں حماس کے اغوا کاروں سے فرار ہونے والے تین اسرائیلی یرغمالیوں نے فوجیوں کے ہاتھوں گولی لگنے سے پہلے سفید پرچم لہرائے اور عبرانی میں مدد کے لیے پکارا۔

سدوت نے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ان کی تنظیم نے مغربی کنارے میں فوجیوں اور آباد کاروں کی جانب سے غیر معمولی سطح پر تشدد دیکھا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے نگرانوں کے مطابق مغربی کنارے کو ریکارڈ پر آنے والے مہلک ترین مراحل میں سے ایک درپیش ہے۔

بیت ریما کے رہائشی احمد رماوی جن کے دو بھائی فائرنگ میں زخمی ہوئے، نے کہا ان کا خیال ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے فوجی زیادہ جارحانہ ہو گئے ہیں۔ ماضی میں وہ ابتدائی طور پر گاؤں میں ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے سٹن گرینیڈ فائر کرتے تھے۔ اب، انہوں نے کہا، "وہ لوگوں پر سیدھا فائرنگ کر دیتے ہیں۔"

فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام کہتے ہیں کہ جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد سے کشیدگی کے تین مہینوں میں 340 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ حماس کے حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس کے حملے نے اسرائیل کو غزہ کی پٹی پر فضائی اور زمینی مہم چلانے پر اکسایا جس میں 23,000 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں - اور مغربی کنارے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے رات کے وقت اکثر مہلک چھاپے مارے جاتے ہیں۔ اسرائیل کہتا ہے کہ کریک ڈاؤن حماس اور دیگر مزاحمت کار گروپوں کے خلاف ہے۔

محمد اور نادر زخموں سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔ دونوں عموماً قریبی فلسطینی گاؤں میں ایک فیکٹری میں بازار کے لیے تیار شدہ سلاد کی پیکنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک چلنے کے قابل نہیں ہو جاتے، وہ دوبارہ کام نہیں کریں گے۔

نادر کی ران میں زخم کی وجہ سے اتوار کو سرجری ہوئی۔ محمد کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے لیکن وہ اپنی دائیں ٹانگ پر وزن ڈالنے سے قاصر ہیں۔ وہ بیت ریما - رام اللہ شہر کے شمال میں تقریباً 4,000 افراد پر مشتمل ایک گاؤں - میں خاندان کے چھوٹے سے آرائشی گھر کے ارد گرد ایک دھاتی واکر کی مدد سے لنگڑا کر چلتے ہیں۔

گاؤں کے گول چکر پر واپس آئیں تو دیواروں پر اسرائیلی افواج کے ساتھ مقابلوں یا جھڑپوں میں جاں بحق ہونے والے مقامی لوگوں کے مرجھائے ہوئے چہروں کی تصاویر لگی ہیں۔ ان میں اب اسید کی تصویر بھی نظر آتی ہے جو زمین میں اس جگہ پر نظریں جمائے ہوئے ہے جہاں اسے قتل کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں