چل سو چل، امریکی وزیر خارجہ اب بحرین کے ہنگامی دورے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کی بدھ کے روز بحرین پہنچنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ یہ ان کے مشرق وسطیٰ کے انتہائی بحرانی دورے کا تازہ ترین حصہ تھا۔ اس سے پہلے بدھ کے روز انھوں نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کی۔

ان کے دورہ بحرین کا مقصد بھی شاہ حماد سے مل کر خطے میں کشیدگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوششیں بتایا گیا ہے۔ بلنکن کئی روز سے مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ وہ اس سے پہلے قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اسرائیل، ترکیہ اور یونان کا بھی دورہ کر چکے ہیں۔

خلیجی مملکت بحرین واشنگٹن کی اہم شراکت دار ہے۔ نیز امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کی میزبان ہے۔

بحرین نے ابھی پچھلے ہی مہینے امریکی قیادت میں اس بحری ٹاسک فورس میں بھی شرکت قبول کی ہے جو بحیرہ احمر میں حوثیوں کی طرف سے اسرائیل اور اس کے حامی ملکوں کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے سے پیداشدہ صورتحال اور عالمی تجارت کے لیے مسائل سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

حوثیوں کا کہنا ہے وہ بحیرہ احمر میں اسرائیل سے متعلق بحری جہازوں کو غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار کے لیے نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس حوثی مہم کے بعد کئی جہاز ران کمپنیوں نے سمندری تجارتی روٹ کو تبدیل کرنے کا فصلہ کیا ہے تاکہ عالمی تجارت و معیشت کو بڑے دھچکے سے بچایا جا سکے۔

انٹونی بلنکن نے کہا جنگ میں شہریوں کی ہلاکتوں کا گراف بہت اونچا ہوگیا ہے۔ خاص طور پر بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہاں پر امدادی کارروائیاں زیادہ کی جائیں۔

اسرائیل کی اندھا دھند جارحیت کے نتیجے میں اب تک 23200 فلسطینیوں کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ ان میں بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں