ہولوکاسٹ میں بچ جانے والا سابق جج ہارون براک عالمی عدالت میں اسرائیل کا مقدمہ لڑےگا

سابق چیف جسٹس ریٹائرڈ ہارون براک ہولوکاسٹ سے بچ جانے والوں میں شامل تھے۔ براک کی قیادت میں اسرائیل نے 15 رکنی قانونی ٹیم مقرر کی ہے جو دی ہیگ کی عالمی عدالت میں جنوبی افریقا کی طرف سے اسرائیل پر جنگی جرائم کے دائر مقدمےمیں تل ابیب کی طرف سے پیروے کرے گی۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اس ہفتے بین الاقوامی عدالت انصاف جنوبی افریقہ کی طرف سے لائے گئے ایک مقدمے کی سماعت کرے گی جس میں اسرائیل پر غزہ جنگ میں نسل کشی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ جنوبی افریقا نے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی مہم کو فوری طور پر روکنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے اس کیس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم کیا ہے۔ اس کے لیے اسرائیل نے اپنے چوٹی کے ماہرین قانون کو چنا ہے جن میں ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے ایک یہودی جج اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ہارون براک کو بھی شامل کیا ہے جو غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے الزامات پر اسرائیل کا دفاع کریں گے۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق اس مقصد کے لیے اسرائیل ہولوکاسٹ کے ایک متنازعہ زندہ بچ جانے والے شخص سمیت سینیر قانونی ماہرین کو الزامات کا سامنا کرنے کے لیے دی ہیگ بھیج رہا ہے۔

ہولوکاسٹ سے بچ جانے والا وکیل

اسرائیل کو مقدمہ کے فریق کی حیثیت سے ایک قانونی ماہر بھیجنے کا حق حاصل ہے۔ اس نے اسرائیلی سپریم کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس کو پندرہ رکنی پینل میں شامل کرنے کے لیے مقرر کیا جو اس الزام پر عالمی عدالت میں قانونی جنگ لڑیں گے۔

اسرائیل نے بین الاقوامی ججوں کے پینل میں شامل ہونے کے لیے ہارون براک کا انتخاب کیا ہے جو کئی دہائیوں سے ملک کے قانونی شعبے کا حصہ ہیں۔

ہارون براک ایک سابق پراسیکیوٹر اور امن مذاکرات کار تھے جنہوں نے 1995ء سے 2006ء تک اسرائیل کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی برتاؤ سے متعلق کئی مقدمات پر فیصلے سنائے۔

87 سالہ بین الاقوامی شہرت یافتہ جسٹس ریٹائرڈ ہارون براک کو Yale اور Oxford سمیت ممتاز یونیورسٹیوں سے اعزازی ڈگریاں بھی مل چکی ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ہولوکاسٹ سے بچ جانے والوں میں شامل تھے۔ اسے لتھوانیا میں کوونو یہودی بستی بھیج دیا گیا تھا جب وہ پانچ سال کا تھا۔ یہ ذاتی تفصیلات دوسرے ججوں کے ساتھ ان کی گفتگو میں اہم ہو سکتی ہیں۔

نیتن یاھو سے اختلافات

لیکن صرف چند ماہ قبل وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں نے اسرائیل کی عدلیہ میں اصلاحات کے اپنے منصوبوں کو آگے بڑھاتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ براک کو ہدف تنقید بنایا تھا۔

مظاہرین نے تل ابیب میں ان کے گھر کے سامنے دھرنا دیا اور سیاست دانوں نے کنیسٹ میں تقریروں میں ان پر تنقید کی۔ لیکن ہیگ میں اس مسئلے کا سامنا کرتے ہوئے نیتن یاہو کاموقف تیزی سے بدل گیا۔ یہاں تک کہ ان کے ناقدین کو بھی حیران کر دیا۔

اسرائیل امید اور خوف کے درمیان

اسرائیل کو امید ہے کہ ماہر قانون ہارون براک اور ان کی ٹیم اپنے تجربے سے دی ہیگ کی عدالت میں جنوبی افریقہ کو قانونی شکست سے دوچار کریں گے، جہاں انہیں غزہ میں اسرائیلی فوجی مہم کے دوران اسرائیلی فوج پر نسل کشی کے الزمات پر اسرائیل کا دفاع کرنا ہوگا۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کے ساتھ معاملہ کرنا اسرائیل کے لیے غیر معمولی واقعہ ہے۔ اسرائیل عام طور پر اقوام متحدہ اور بین الاقوامی عدالتوں کو غیر منصفانہ اور متعصبانہ قرار دیتا آیا ہے۔

بائیکاٹ کے بجائے شرکت کا فیصلہ اسرائیلی اندیشوں کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ جج اسرائیل کو حماس کے خلاف جنگ روکنے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی شبیہ کو مسخ کرنے کا حکم جاری کرسکتے ہیں۔

مقدمہ برسوں تک چل سکتا ہے

قابل ذکر ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے سلوک پر طویل عرصے سے سخت تنقید کرنے والے جنوبی افریقہ نے نیدرلینڈ میں اقوام متحدہ کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔

جب کہ اسرائیل نے نسل کشی کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے مطابق ہیں۔ وہ شہریوں کو نقصان پہنچانے سے روکنے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہا ہے۔ وہ ساتھ ہی حماس پر شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عاید کرتا ہے۔

امکان ہے کہ کیس برسوں تک چلتا رہے گا لیکن جنوبی افریقہ کے میمورنڈم میں عدالت سے یہ درخواست بھی شامل ہے کہ وہ اسرائیل کو "غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر معطل کرنے" کے لیے عبوری احکامات جاری کرے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل کے غزہ پر غیرمسبوق فضائی، زمینی اور سمندری حملے میں 23,200 سے زائد فلسطینی مارے گئے ہیں۔ ہر روز سیکڑوں افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔ مارے جانے والوں میں دو تہائی خواتین اور بچےبتائے جاتے ہیں۔

اسرائیلی فوجی مہم کے نتیجے میں غزہ کی 2.3 ملین آبادی کا تقریباً 85 فیصد بے گھر ہوا اور ان میں سے بہت سے لوگوں کے پاس واپس جانے کے لیے گھر نہیں ہیں۔ ایک چوتھائی سے زیادہ آبادی بھوک سے مر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں