امتحان میں نقل کرتے پکڑی جانے والی رُکن پارلیمنٹ کے بارے میں عدالت کا نیا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر کی القنا گورنری کی ایک انتظامی عدالت نے امتحان کے دوران نقل کرتے پکڑی جانے والی رکن پارلیمنٹ کے یونیورسٹی کی طرف سے امتحان دینے سے محروم کرنے سے متعلق کیس کو اسٹیٹ کمشنرز کو ریفر کرنے کی ہدایت کی اور اس کیس کی مکمل رپورٹ لکھنے کو کہا ہے۔

مصر کی اسیوط گورنر سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمنٹ نشوہ محمد رائف نے ساؤتھ ویلی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد عکاوی کے فیکلٹی میں تیسرے سال کے امتحانات مکمل کرنے سے روکنے اور اسے مزید امتحانی عمل سے محروم کرنے کے فیصلے کے خلاف ایک فوری مقدمہ دائر کیا تھا۔

یونیورسٹی کی طرف سے خاتون رکن پارلیمنٹ کو امتحان میں دھوکہ دہی کا ارتکاب کرنے کے بعد اسے مزید امتحانی عمل سے خارج کرنے کا حکم دیا تھا۔

یونیورسٹی نے 1972 کے یونیورسٹیز آرگنائزیشن قانون نمبر 49 کے ایگزیکٹو ریگولیشنز کے آرٹیکل 125 کے متن کے مطابق رکن پارلیمان کو تحقیقات کے لیے قانونی امور کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یونیورسٹی میں یہ واقعہ چند روز قبل پیش آیا تھا جب رکن پارلیمنٹ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لاء میں امتحان دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں نقل کرتے پکڑی گئی تھی۔ اس وقت اس نے امتحانی عملے کے ساتھ بدتمیزی کی اور انہیں مارا پیٹا تھا۔ تاہم یونیورسٹی نے اسے امتحان دینے سے روک دیا تھا۔

شرمسار کرنے دینے والا واقعہ

جنوبی مصر کی ساؤتھ ویلی یونیورسٹی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جب ایک خاتون رکن پارلیمنٹ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لاء میں امتحان دیتے ہوئے دھوکہ دہی کرتی ہوئی پکڑی گئی۔

اس واقعے نے مصرمیں دیگر ارکان پارلیمان کا سربھی شرم سے جھکا دیا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ساؤتھ ویلی یونیورسٹی’انتساب‘ میں فیکلٹی آف لاء کے تیسرے سال کی ایک طالبہ اور امتحانات کی پرویکٹرنگ کی ذمہ دار یونیورسٹی کے پروفیسرکے درمیان زبانی تکرار ہوئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب رکن پارلیمنٹ نےپراکٹر پرحملہ کیا اور مارا پیٹا۔ یہ ہنگامہ آرائی اس وقت ہوئی جب نگران خاتون ٹیچرنےرکن پارلیمنٹ کو ہیڈ فون کے ذریعے پرچے میں نقل کرتے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔

دوسری طرف ساؤتھ ویلی یونیورسٹی نے اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ فیکلٹی ممبران میں سے ایک اسسٹنٹ جو کہ ایک اسسٹنٹ پروفیسرہے۔ فیکلٹی آف لاء میں تھرڈ ایئر کے طلباء کے امتحان کے دوران طلبا انتظامی عدلیہ کے مضمون کا امتحان دے رہے۔ اس دوران اس نے ایک طالبہ کی آواز سنی جب وہ امتحان دے رہی تھی۔

وائرلیس ائرفون

اس نے وضاحت کی کہ جب نگرا خاتون نے طالبہ سے آنے والی آواز کی تصدیق کرنے کے لیے اس سے رابطہ کیا تو اس نے دریافت کیا کہ اس نے ایک ڈیوائس سے منسلک وائرلیس ایئر فون لگا رکھا ہے۔ اسے دھوکہ دے رہی ہے اور اسے فوراً اس ایئر فون کو نکالنے کو کہا۔

یونیورسٹی نے کہا کہ طالبہ نے ہیڈسیٹ مانیٹر کے حوالے کرنے سے انکار کیا اور معلمہ کواس نے اسے مارا پیٹا اور جب سپروائزر نے اپنے ساتھی کو بچانے کی کوشش کی تو اس نے اس پر بھی حملہ کردیا۔ بعد میں یہ واضح ہوا کہ طالبہ مصری پارلیمنٹ کی رکن تھی۔ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد فوری طور پر اس کے خلاف فراڈ کی رپورٹ درج کرائی گئی ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں