ایران نے بحیرہ عرب میں امریکی آئل ٹینکرکو یرغمال بنانے کی تصدیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران نے جمعرات کو بحیرہ عرب میں ایک امریکی آئل ٹینکر کو قبضے میں لینے کی تصدیق کی ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ تہران نے عدالتی حکم کے مطابق خلیج عمان میں امریکی خام تیل کے ٹینکر کو قبضے میں لے لیا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی بحریہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس نے عمان کے ساحل سے ایک آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا ہے۔

یونانی کمپنی "ایمپائر نیوی گیشن" نے آج اطلاع دی ہے کہ "ہائی جیک" کیے گئے ٹینکر سینٹ نکولس کو ترکیہ کی "ٹوپراس" کمپنی نے چارٹر کیا تھا۔ اس نے کہا کہ اس نے "ہنگامی پلان کو فعال کیا اور متعلقہ حکام کو مطلع کیا۔ ہم اس کے ساتھ رابطہ بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

کمپنی نے کہا کہ ٹینکر تقریباً 145,000 میٹرک ٹن خام تیل لے کر جا رہا تھا، جسے اس نے چند روز قبل عراقی بندرگاہ بصرہ پر سپلائی کیا تھا۔ اس کارگو کو نہر سویز کے راستے ترکیہ کے شہر علیگا کی طرف روانہ کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے دو برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسیوں’ یو کے‘ ایم ٹی او اور ’ای ایم بی آر آئی‘ نے جمعرات کو اطلاع دی تھی کہ مسلح افراد خلیج عمان میں ایک بحری جہاز پر سوار ہوئے جس کے بعد اس سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

UKMTO جو رائل نیوی کے زیر انتظام کام کرتی ہے نےبتایا کہ اسے سکیورٹی ڈائریکٹر کی طرف سے ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے کہ جہاز کے کپتان کے ساتھ "فون پر نامعلوم آوازیں سنائی دی ہیں"۔

میری ٹائم سکیورٹی کمپنی ایمبری نے اے ایف پی کو عمانی کی درخواست کے جواب میں کہا کہ "چار سے پانچ مسلح افراد سینٹ نکولس کروڈ آئل ٹینکر پر سوار ہوئے جس پر مارشل آئی لینڈ کا جھنڈا لہرا رہا تھا جب کہ یہ عمان کی ریاست صحارسے 50 ناٹیکل میل مشرق میں تھا۔"

اس کے بعد کمپنی نے ایک بیان میں مزید کہا کہ ٹینکر 11.4 ناٹ کی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا اور بورڈنگ کے اطلاع کے ایک گھنٹہ بعد ایک مقررہ راستے پر اس رفتار سے آگے بڑھتا رہا۔ مسلح افراد جہاز میں گھس کر اس کا رخ ایران کی جاسک بندرگاہ کی طرف لے گئے۔

ایمبرے نے وضاحت کی کہ مشتبہ بندوق برداروں نے "سیاہ فوجی وردی اور سیاہ ماسک" پہنے ہوئے تھے۔ انہوں نے جہاز میں سوار ہو کر نگرانی کے کیمرے ڈھانپ دیے۔

بعد ازاں یونانی کمپنی "ایمپائر نیویگیشن" نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے آئل ٹینکر میں "18 فلپائنی اور ایک یونانی عملہ سوار ہے"۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "گذشتہ چند دنوں میں اس نے بصرہ (عراق) میں تقریباً 145,000 ٹن خام تیل کی کھیپ لوڈ کی تھی، جو نہر سویز کے راستےترکیہ کی طرف جارہا تھا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں