سعودی عرب: تھیلیسیمیا کے مریضوں کے علاج کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے ’کاس گوی‘ طریقہ علاج کی منظوری دی ہے۔ یہ مملکت میں اپنی نوعیت کا پہلا طریقہ علاج ہے جو کہ جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی "CRISPR-Cas9" کا استعمال کرتے ہوئے سکیل سیل انیمیا کے مریضوں کے علاج کے لیے کام کرے گا۔ اس مرض کو تھیلیسیمیا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی 12 سال یا اس سے زیادہ عمر کے مریضوں کے علاج کے لیے کارآمد ہوگا۔

سعودی عرب کی ڈرگ اتھارٹی نے ضروری معیارات پر پورا اترنے کی جانچ کے لیےعلاج کی تاثیر، حفاظت اور معیار کا اچھی طرح جائزہ لیا۔ علاج متاثرہ جین میں جینیاتی تبدیلی کی جینیاتی ترمیم کے ذریعے کام کرتا ہے تاکہ مریض کی ہڈی سے سٹیم سیل نکال کر میرو لیبارٹری میں جینیاتی طور پر ان کی تدوین اور دیرپا اثر دینے کے لیے مریض کے جسم میں دوبارہ پیوند کاری کرکے جسم میں ہیموگلوبن کو مناسب طریقے سے پیدا کرسکے۔

اس تناظر میں، طبی جینیات کی مشیر ڈاکٹر مریم العیسیٰ نے انکشاف کیا کہ پچھلے کلینیکل ٹرائلز نے سوزش کے حملوں اور شدید عروقی رکاوٹوں کو کم کرنے میں علاج کی تاثیر کو ظاہر کیا تھا، جب کہ جینیاتی دوائی کا جسم میں CRISPR-Cas9 ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے DNA کا پر کوئی منفی اثر ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

مینوفیکچرر آنے والے سالوں میں علاج کرانے والے مریضوں کا معائنہ جاری رکھے گا تاکہ کسی بھی ضمنی اثرات کی نگرانی کی جا سکے۔

میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پیچیدہ امراض کے لیے جینیاتی انجینئرنگ اور جینیاتی انفارمیٹکس میں فیلوشپ رکھنے والے العیسیٰ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں خون کی بیماریاں بعض دیگر بیماریوں کے مقابلے زیادہ پھیلی ہوئی ہیں۔

ڈاکٹر مریم نے نشاندہی کی کہ عام طور پر جین تھراپی کی لاگت بہت مہنگی ہوتی ہے اور ایسے معاملات میں دوائیوں کی تیاری میں کچھ قابل ذکر پیچیدگیاں ہوتی ہیں جب کہ سعودی عرب نے صحت کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے اور امراض کو کم کرنے کے لیے جین ایڈیٹنگ میں خصوصی ٹیکنالوجی کی فراہمی میں تیزی لائی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں