غزہ: اسرائیلی کارروائیوں میں اضافہ، برطانوی ڈاکٹر آخری 'فعال ہسپتال‘ چھوڑنے پر مجبور

صحت کی نگہداشت کرنے والا عملہ ناکافی، صورتحال انتہائی سنگین ہے: ڈاکٹرز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کے آخری فعال ہسپتال چھوڑنے پر مجبور ہونے والے برطانوی ڈاکٹروں نے وسطی غزہ کے ہسپتال کے مریضوں اور وہاں کے باقی عملے کے بارے میں "گہری تشویش" کا اظہار کیا ہے۔

دیر البلاح کے الاقصیٰ شہداء ہسپتال میں ماہر امراض نسواں کی ڈاکٹر ڈیبورا ہیرنگٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں اسرائیل کی فوجی کارروائی کے نتیجے گذشتہ دو ہفتوں میں ہسپتال میں کام کے اہل عملے کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا ہسپتال کے اندر ہر روز تقریبا 600 سے 700 مریض زیرِ علاج ہیں اور سینکڑوں بے گھر فلسطینی وہاں یا اردگرد کے علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

سرجن نک مینارڈ نے بی بی سی کو بتایا: "صحت کی نگہداشت کرنے والے عملے کی کمی وسطی غزہ میں رہنے والے لوگوں کے لیے انتہائی سنگین صورتحال ہے۔"

بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت عوامی مقامات خصوصا ہسپتال فوجی حملوں سے محفوظ قرار دیئے جاتے ہیں۔ طبی سہولیات کے آس پاس کسی بھی فوجی آپریشن میں مریضوں، صحت کی نگہداشت کرنے والے کارکنان اور دیگر شہریوں کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔

فلسطینیوں کے لیے طبی امداد اور بین الاقوامی ریسکیو کی کمیٹی نے پیر کے روز کہا کہ ان کے کارکنان الاقصیٰ اسپتال کے ارد گرد "اسرائیلی فوجی سرگرمیوں میں اضافے" کی وجہ سے "اپنے فرائض سے دستبردار ہونے اور کام ختم کرنے" پر مجبور ہو گئے تھے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہونم نے کہا کہ "اُن کے ادارے کو اہم الاقصیٰ ہسپتال کے قریب بڑھتی ہوئی دشمنیوں اور انخلاء کے احکامات کی پریشان کن اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان کارروائیوں کی وجہ سے 600 سے زیادہ مریضوں اور زیادہ تر صحت کارکنان کو وہاں سے چلے جانے پر مجبور کر دیا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں