فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ سے حماس کا انخلاء اور اسرائیلی فوج کی واپسی، جنگ بندی کے لیے قطر کی نئی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ آج رات اسرائیلی جنگی کونسل حماس کے ساتھ قیدیوں اور نظربندوں کے تبادلے کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے قطر کی طرف سے ایک نئی تجویز پر تبادلہ خیال کرے گی۔

کمیشن نے وضاحت کی کہ اس تجویز کی تفصیلات جسے " نئی" قرار دیا ہے، میں کئی چیزیں شامل ہیں، جن میں سے سب سے اہم غزہ کی پٹی سے حماس کے رہ نماؤں کا انخلا، اسرائیلی فوج کا انخلا اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی تجاویز شامل ہیں۔

انہوں نے اسرائیلی انٹیلی جنس سروس (موساد) کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا حماس کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کی بحالی سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر جنگی کونسل کو رپورٹ پیش کریں گے، کیونکہ وہ ثالث ممالک کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لیے حکومت کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں۔

حماس کی کسی نئی تجویز کی تردید

دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ اعلان کردہ قطری اقدام حقیقی خبر نہیں ہے۔اس کا کہنا ہے کہ کوئی بھی اقدام اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک کہ وہ غزہ پر جنگ کے مکمل خاتمے پر مبنی نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں قیدی اس وقت تک زندہ واپس نہیں آئیں گے جب تک کہ نیتن یاہو ان کی شرائط کا جواب نہیں دیتے۔ جنگ کا ایک جامع اور مکمل خاتمہ ہے، غزہ کی پٹی پر جنگ کے خاتمے کی حمایت میں کسی بھی اقدام یا کوشش کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

حماس نے عالمی عدالت انصاف سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی دباؤ کے سامنے نہ جھکےاور ساتھ ہی امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ پر جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں رکاوٹ بننے والی اپنی پالیسی بند کرے۔

قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے اشارہ دیا کہ حماس اس وقت اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے بات چیت میں مصروف ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں