فلسطین اسرائیل تنازع

وائٹ ہاؤس کے سینئر اہلکار اسرائیل-لبنان کشیدگی کم کرنے کے لیے بیروت کا دورہ کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک امریکی اہلکار نے بدھ کو تا دیر بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیر اموس ہوچسٹین کے جمعرات کو بیروت کے دورے کی توقع ہے جو اسرائیل-لبنان سرحد پر کشیدگی کم کرنے کی امریکی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔

واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ سے پورے خطے میں تشدد پھیل سکتا ہے کیونکہ اسرائیل کے روایتی حریف ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپ لبنان، شام، عراق اور یمن میں حماس سے یکجہتی کے لیے حملے کر رہے ہیں۔

تین ماہ قبل فلسطینی گروپ حماس کے غزہ سے اسرائیلی سرحد میں دراندازی کے بعد سے لبنانی مسلح گروپ حزب اللہ لبنان کی جنوبی سرحد کے پار اسرائیلی فوج کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کر رہا ہے جس کا اسرائیل نے فلسطینی انکلیو پر بھاری اور مہلک حملوں سے جواب دیا ہے۔

سرحدی تشدد نے دونوں اطراف کے دسیوں ہزار افراد کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے اور خدشہ پیدا کیا ہے کہ غزہ کا تنازعہ باقی خطے میں پھیل سکتا ہے۔

لبنان کے نگراں وزیرِ اعظم نجیب میقاتی نے منگل کے روز اقوامِ متحدہ کے ایک سینئر اہلکار کو بتایا کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ اپنی جنوبی سرحد پر طویل مدتی استحکام کی غرض سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔

2022 میں دونوں ممالک کے درمیان سمندری سرحدیں طے کرنے کے معاہدے میں ثالثی کرنے کے بعد امریکی توانائی کے ایلچی ہوچسٹین نے گذشتہ سال اسرائیل اور لبنان کے درمیان زمینی سرحد کھینچنے پر بات چیت کا امکان ظاہر کیا تھا۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے شمال میں رہنے والے لوگوں پر حزب اللہ کو گولی چلانے سے روکنے اور اسے سرحد سے پیچھے دھکیلنے کے لیے سفارت کاری کا ایک موقع دے رہا ہے۔ اس نے خبردار کیا ہے کہ دوسری صورت میں اسرائیلی فوج ان مقاصد کے حصول کے لیے کارروائی کرے گی۔

لبنان میں حزب اللہ کے 130 سے زائد ارکان جاں بحق ہو چکے ہیں۔ حزب اللہ نے کہا ہے کہ وہ مکمل جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر اسرائیل جنگ شروع کرتا ہے تو وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی جارحیت میں 23,000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جو غزہ کی 2.3 ملین آبادی کا تقریباً 1 فیصد ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں