کرمان حملوں کے مرتکب افراد کا تعلق تاجکستان سے تھا: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایرانی وزیرداخلہ نےانکشاف کیا کہ کرمان میں حملہ کرنے والے خودکش حملہ آوروں کی شناخت ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آوروں میں سے ایک تاجک تھا اور دوسرا ممکنہ طور پر تاجک ہوسکتا ہے۔

اس واقعے سے منسلک کچھ عناصر کو گرفتار کر لیا گیا۔ جب کہ سکیورٹی سروسزنے دیگر آلات دریافت کر لیے ہیں۔

32 افراد گرفتار

کرمان کے پبلک پراسیکیوٹر نے گزشتہ اتوار کو اعلان کیا تھا کہ کرمان حملے کے سلسلے میں 32 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

جنوبی ایران کے صوبہ کرمان میں ایک بم دھماکے کی جگہ سے (رائٹرز)
جنوبی ایران کے صوبہ کرمان میں ایک بم دھماکے کی جگہ سے (رائٹرز)

ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی گذشتہ بدھ کو ہلاکت کی چوتھی برسی کے موقع پر صوبہ کرمان میں ان کے مزار کے قریب دو بم دھماکے ہوئے تھے۔

ایرانی ایمرجنسی آرگنائزیشن کے سربراہ جعفر میعادفر نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 91 ہو گئی ہے جب کہ زخمیوں سمیت کل متاثرین کی تعداد 368 ہو گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ’داعش‘ نے ان دونوں بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس کے دو ارکان نے جنوبی شہر کرمان میں قاسم سلیمانی کی قبر کے قریب مشرک شیعوں کے ایک بڑے اجتماع کے درمیان "اپنی دھماکہ خیز بیلٹ کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس میں دسیوں شیعہ زائرین ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں